جھگیوں میں جان بوجھ کر آگ لگائی گئی کیمیکل بھی استعمال کیا گیا مکینوں کا الزام

January 23, 2020 1:43 pm0 commentsViews: 6

جھگی کو تالا لگا کر روٹیاں لینے لیاقت آباد ڈاک خانے گیا تھا واپس آیا تو آدھی سے زیادہ بستی جل چکی تھی، برجو کا بیان
میری والدہ نے جہیز کیلئے پیٹی میں دو لاکھ روپے جمع کئے تھے وہ بھی جل گئے، متاثرہ شخص کا بیان
تین ہٹی پل کے نیچے جھگیوں میں لگنے والی آگ پراسراریت اختیار کرگئی، تحقیقات شروع کردی گئی
کراچی (کرائم ڈیسک) تین ہٹی پُل کے نیچے جھگیوں میں لگنے والی آگ کے حوالے سے متضاد باتیں سامنے آنے کے باعث معاملہ پراسراریت اختیار کر گیا، جھگی کے ایک مکین کا کہنا تھا کہ اس کے گھر میں جلائے جانے والے دیے کی وجہ سے لگی جبکہ بعض مکینوں نے الزام عائد کیا ہے کہ آگ مبینہ طور پر جان بوجھ کر لگائی گئی جس میں کیمیکل کا استعمال کیا گیا۔ مکینوں کے الزامات کے بعد تحقیقات شروع کردی گئیں، تین ہٹی پُل کے نیچے لگنے والی خوفناک آگ میں جل کر خاکستر ہونے والی جھگیوں میں سے ایک جھگی کے مکین برجو نے انکشاف کیا کہ میں گزشتہ 22 سال سے تین ہٹی پُل کے قریب قائم جھگیوں میں رہتا ہوں میری 8 سالہ بھتیجی ممتا نے دیا جلایا تھا اس وقت میں بھی موجود تھا، دیا جلا کر ممتا باہر چلی گئی اور کچھ دیر کے بعد میں بھی جھگی کا دروازہ بند کرکے لیاقت آباد ڈاکخانے روٹیاں لینے چلا گیا، برجو کا کہنا تھا کہ وہ جب واپس آیا تو آدھے سے زیادہ بستی جل چکی تھی اور جھگیوں کے دیگر مکینوں نے مجھے کہاکہ تمہاری وجہ سے بستی میں آگ لگی اور اس وجہ سے میں ڈر کر بھاگ گیا، برجو کا کہنا تھا کہ آگ جان بوجھ کر نہیں لگائی یہ ایک حادثہ تھا، بھتیجی ممتا کے ہاتھوں جلائے جانے والے دیے نے پہلے جھگی میں لگے ہوئے پردے میں آگ پکڑی جس کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے آگ چاروں طرف پھیل گئی، برجو کا کہنا تھا کہ میری والدہ نے جہیز کے لیے پیٹی میں دو لاکھ روپے جمع کیے تھے وہ بھی اسی آگ میں جل کر خاکستر ہوگئے۔ آتشزدگی کے بعد متاثرین اپنی جلی ہوئی جھگیوں کو دیکھ کر افسردہ دکھائی دیے اور اس امید پر جلے ہوئے سامان میں اپنی قیمتی اشیا بھی تلاش کرتے ہوئے دکھائی دیے۔ جھکی کے مکین ارجن اور اس کی بیوی کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی 2 بیٹیوں کے جہیز کے لیے کئی سالوں سے پائی پائی جوڑ کر ایک ڈبے میں پیسے جمع کیے تھے جبکہ کچھ سامان بھی خریدا تھا مگر آگ نے انہیں اتنی مہلت نہیں دی کہ وہ اپنی جمع پونجی کو بچا لیتے جھگی کی رہائشی بندیا نامی خاتون نے بتایا کہ وہ تو بھیک مانگ کر پیسے جمع کرتی ہے۔