نیب آرڈیننس 4 ماہ تک موجود ہے ، توسیع بھی ہوسکتی ہے ، شہزاد اکبر

January 27, 2020 1:49 pm0 commentsViews: 4

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ احتساب کا عمل نہ کبھی سُست تھا اور نہ ہی بہت تیز تھا، احتساب کے عمل میں بہتری کے لئے کچھ ترامیم کی ہیں،نیب کا کوئی آرڈیننس واپس نہیں لیا گیا،نیب آرڈیننس 4 ماہ تک موجود ہے،توسیع بھی ہوسکتی ہے۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیر کو وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے ہائیکورٹ جرنلسٹ ایسوسی ایشن کی حلف برداری سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزادی اظہار کی رائے پر کوئی دوسری رائے نہیں ہونی چائیے، اظہارِ رائےکو آج کے دور میں روکا ہی نہیں جاسکتا نہ ہی ہماری حکومت کی ایسی سوچ ہے۔ شہزاد اکبر نے دو ٹوک کہا کہ صحافیوں کے حقوق سے متعلق جو بھی کردار ادا کر سکا وہ کروں گا۔

تفصیلات کے مطابق انھوں نے کہا کہ حکومت کوئی ایسا قانون نہیں بنا سکتی جس کی معاشرے میں پذیرائی نہ ہو، معاشرے میں مکالمہ ہر بات پر ہونا چائیے۔

نوازشریف سے متعلق شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی ضمانت پر 4 ہفتے کا وقت گزر چکا ہے، نواز شریف کی جانب سےجو رپورٹس بھیجی گئی ہیں ان میں سے دراصل رپورٹ کوئی نہیں ہے،پنجاب حکومت کو صرف ایک سرٹیفکیٹ بھیج دیا گیا ہے،میڈیکل رپورٹس اس سرٹیفکیٹ کیساتھ منسلک نہیں ہیں ۔

انھوں نے مزید بتایا کہ حکومت نے نواز شریف اور ان کی قانونی ٹیم سے وضاحت مانگی ہے، ہم نے پوچھا ہے کہ جس علاج کے لیے آپ گئے ہیں وہ بتائیں کتنا ہوا ہے، یہاں نواز شریف کے پلیٹلیٹس پر لمحہ بہ لمحہ آگاہ کیا جاتا تھا، جب سے نواز شریف باہر گئے ہیں ، اس معاملے پر مکمل اندھیرا ہے۔ شہزاد اکبر نے یہ بھی کہا کہ نواز شریف کے معاملے پر فیصلہ ضرور ہونا چائیے۔