سندھ میں تعلیمی سیشن میں تبدیلی کے خلاف نجی اسکولوں کا احتجاج

February 12, 2020 2:32 pm0 commentsViews: 4

ہزاروں طلبا کے ساتھ ساتھ والدین اورسول سوسائٹی کے اراکین نے حصہ لیا
7 ماہ میں پیپرز کی تیاری ممکن نہیں، 5 لاکھ طلباکے مستقبل سے نہ کھیلا جائے ،مقررین
کراچی ( اسٹاف رپورٹر)صوبے کے تعلیمی سیشن میں تبدیلی کے خلاف پرائیویٹ اسکولز مینجمنٹ ایسو سی ایشن (پسما) اور ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ انسٹیٹیوشنز سندھ کے زیر اہتمام کراچی پریس کلب پر منگل کو احتجاجی مظاہرہ ہوا۔ مظاہرے سے پہلے اساتذہ ، والدین اورطلبا وطالبات نے اجتماعی طورپرقومی ترانے میں حصہ لیتے ہوئے پرامن احتجاج کاآغازکیا جس میں ہزاروں طلبا کے ساتھ ساتھ والدین اورسول سوسائٹی کے اراکین نے حصہ لیا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھار کھے تھے جن پر صوبہ سندھ کے 5 لاکھ سے زائد طالب علموں کے مستقبل سے کھیلنا بند کیا جائے ، تعلیمی سال یکم اپریل سے شروع کرکے 31مارچ کو ختم کرنے کی اجازت دی جائے کے نعرے درج تھے۔ احتجاجی مظاہرے میں پرائیویٹ اسکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن کے چیئرمین شرف الزماں،جنرل سیکریٹری سید اسرار علی، سینئر وائس چیئر مین جمال الحق صدیقی، وائس چیئر مین محمد اختر آرائیں، اسلام الحق ملک، ڈپٹی جنرل سیکریٹری علی حسن گبول، محی الدین عرف بابو بھائی، سپریم کونسل کے ممبران فہد طارق، حیدر علی، محمد ذکی، سید حارث حسین، سلمان الطاف، ڈاکٹر رفیع احمد، سلیم اللہ و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یکم جولائی سے تعلیمی سال شروع ہونے کی صورت میں طلبہ کو صرف 7ماہ10دن پڑھنے کو ملیں گے جس میں 7 پیپر کی تیاری ناممکن ہے، 5 لاکھ طلباکے مستقبل سے نہ کھیلا جائے۔ مقررین نے وزیر تعلیم سعید غنی سے اپیل کی کہ یکم اپریل سے تعلیمی سال کو شروع کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔