حکومت اسکولوں میں طلبہ پر تشدد روکے‘ عدالت کا حکم

February 13, 2020 2:49 pm0 commentsViews: 15

اسلام آباد: عدالت عالیہ نے وفاقی دارالحکومت میں بچوں پر تشدد فوری روکنے کا حکم دیتے ہوئے اسکولوں میں بچوں کی جسمانی سزا پر پابندی لگا دی۔ نجی ٹی وی کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں بچوں پر تشدد اور جسمانی سزا پر پابندی کے حوالے سے معروف گلوکار اور زندگی ٹرسٹ کے صدر شہزاد رائے کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست میں سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری قانون، سیکرٹری تعلیم، سیکرٹری انسانی حقوق اور انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آباد کو فریق بنایا گیا ہے۔

دوران سماعت شہزاد رائے کے وکیل نے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا شہزاد رائے زندگی ٹرسٹ کے زیر اہتمام دو اسکول چلا رہے ہیں، بچوں پر آج بھی تشدد ہوتا ہے اور جسمانی سزا دی جاتی ہے، کچھ روز قبل لاہور میں ایک پرائیویٹ اسکول میں حنین بلال پر بھی اسی طرح تشدد کیا گیا۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا قومی اسمبلی نے کوئی بل بھی پاس کیا تھا، جس پر شہزاد رائے کے وکیل نے کہا سیاسی معاملات کی وجہ سے قانون سازی نہیں ہو پارہی، آج بھی اسکولوں میں بچوں کو جسمانی سزا دی جاتی ہے اور ان پر تشدد کیا جاتا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں بچوں پر تشدد فوری روکنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ وزارت داخلہ آئین کے آرٹیکل 14 کے تحت بچوں پر تشدد کی روک تھام کے اقدامات کرے۔ عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں میں جواب طلب کرلیا، بعد ازاں کیس کی مزید سماعت 5 مارچ تک ملتوی کردی گئی۔