سندھ حکومت ‘ سابق مشیران ‘بیوروکریٹس 25 سرکاری گاڑیاںلے کر غائب عہدہ چھوڑنے کے بعدگاڑیاں واپس نہیں کیں

February 14, 2020 11:58 am0 commentsViews: 2

اصغر علی جنید جونیجو سال 2013ء سے 2018ء تک صوبائی مشیر رہے اور 2 سال سے سرکاری گاڑی کے مزے لے رہے ہیں
سابق ایم این اے شگفتہ جمانی کے پاس سرکاری گاڑی جی ایس 9547 موجود ہے اور وہ حکومت سندھ کی گاڑی استعمال کررہی ہیں
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)حکومت سندھ کے سابق صلاح کاروں، پیپلز پارٹی کے ایم این ایز ، ایم پی ایز اور بیوروکریٹس نے 25 سرکاری گاڑیاں واپس نہ کیں، منتخب نمائندے اور افسران سرکاری گاڑیاں غیر قانونی طور پر استعمال کررہے ہیں۔ میڈیا کو موصول ہونے والے دستاویز کے مطابق سابق وزیراعلیٰ قائم علی شاہ کے دور میں صلاح کار کے عہدے پر رہنے والے اصغر علی جنید جونیجوکے پاس سرکاری گاڑی جی ایس اے 098 موجود ہے، اصغر علی جنید جونیجو سال 2013ء سے 2018ء تک صلاح کار رہے اور 2 سال سے سرکاری گاڑی کے مزے لے رہے ہیں، اصغر علی جونیجو کے والد سابق ایم این اے محمد خان جونیجو کے پاس جی ایس اے 099 موجود ہے اور وہ بھی دو سال سے سرکاری گاڑی واپس نہیں کررہے۔ پی پی کی سابق ایم این اے شگفتہ جمانی کے پاس بھی سرکاری گاڑی جی ایس 9547 موجود ہے اور وہ حکومت سندھ کی گاڑی استعمال کررہی ہیں۔ سابق خاص معاون نادیہ گبول بھی سندھ کے عوام کے پیسے سے خرید کی گئی گاڑی جی ایس اے 092 کے مزے لے رہی ہیں، نادیہ گبول گزشتہ حکومت میں خاص معاون تھی، لیکن اب بھی گاڑی واپس کرنے کو تیار نہیں، سابق ایم پی ای شہناز بیگم کے پاس جی ایس 6729 موجود ہے اور وہ بھی سرکاری گاڑی کے مزے لی رہی ہیں۔ لیاری سے تعلق رکھنے والی پی پی کی سابق سینیٹر الماس پروین جی ایس اے 072 موجود ہے ، الماس پروین بھی سینیٹ سے ریٹائر ہوگئی، لیکن گاڑی حکومت سندھ کی رکھ لی ہے، سابق ایم پی اے نورجہاں بلوچ نے بھی سرکاری گاڑی جی ایس 9890 واپس نہیں کی اورکئی سال سے غیر قانونی طور پر گاڑی استعمال کررہی ہیں۔ ڈی سی ویسٹ فیاض عالم سولنگی کے پاس جی ایس اے 080 موجود ہے ا ور وہ بھی سرکاری گاڑی کے غیر قانونی طور مزے لے رہے ہیں۔حکومت سندھ کے سابق کوآرڈینیٹر احسن رضا جعفری، سابق صلاح کار جاوید احمد شاہ، سابق صلاح کار میر ناصر خان کھوسو سرکاری عہدہ نہ ہونے کے باوجود حکومت سندھ کی گاڑیاں ذاتی کام میں استعمال کررہے ہیں،جبکہ محکمہ بہبود آبادی کے افسر اللہ رکھیو خاصخیلی، آئی ٹی کے افسر ندیم جعفری، اعلیٰ افسران مزمل ہالیپوٹو، مصطفیٰ جمال قاضی، سید ذاکر حسین، گلزار علی میمن،خلیل احمد سومرو بھی سرکاری گاڑیاں غیر قانونی طور پر استعمال کررہے ہیں۔ حکومت سندھ کے محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن کی طرف سے متعدد بار سابق صلاح کاروں ، سابق خاص معاونین ، سابق سینیٹر، ایم این ایز ، ایم پی ایز اور افسران کو گاڑیاں واپس دینے کیلئے نوٹس بھیجے گئے، لیکن پی پی سے تعلق رکھنے والے بااثر افراد گاڑیاں واپس نہیں کررہے،جبکہ محکمہ ثقافت کا دعویٰ ہے کہ ان کی 3 گاڑیاں سابق صلاح کار شرمیلا فاروقی کے پاس موجود ہیں، ان گاڑیوں کے نمبر سوزوکی کلٹس وی ایکس آر 2006، کرولا جی ایل آئی، کرولا ایکسل آئی۔ محکمہ ثقافت کے سابق سیکریٹری ساقب سومرو، سابق سیکشن آفیسر رحیم بگٹی، سابق سیکریٹری کلیم اللہ لاشاری کے پاس بھی سرکاری گاڑیاں موجود ہیں اور وہ بھی سرکاری گاڑیاں غیر قانونی طور پر استعمال کررہے ہیں،محکمہ ثقافت کی 3 گاڑیاں گم ہیں اور کچھ پتا نہیں کہ یہ گاڑیاں کس کے پاس ہیں۔ سابق صلاح کار شرمیلا فاروقی کا کہنا تھا کہ ان کے پاس محکمہ ثقافت کی کوئی گاڑی نہیں عہدہ چھوڑنے کے بعد انہوں نے گاڑیاں واپس کردیں تھیں۔