سانحہ ماڈل ٹاؤن: نیا بنچ تشکیل دے کر 3 ماہ میں فیصلہ سنانے کا حکم

February 14, 2020 12:00 pm0 commentsViews: 3

سانحہ میں لوگ جاں بحق ہوئے اور زخمی بھی، فیصلہ ہر صورت ہونا چاہیے‘ جسٹس گلزار احمد
پولیس افسران نوٹس کے باوجود پیش ہوئے نہ جے آئی ٹی کی مخالفت کی‘جسٹس اعجاز الاحسن
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)عدالت عظمیٰ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی نئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کو کام سے روکنے کا حکم معطل کرنے کی استدعا مسترد کردی۔چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بینچ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی نئی جے آئی ٹی کو کام کی اجازت دینے کیلیے عوامی تحریک اور دیگر کی درخواستوں کی سماعت کی۔عدالت عظمیٰ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی نئی جے آئی ٹی کو کام سے روکنے کا حکم معطل کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے عوامی تحریک اور پنجاب حکومت کی اپیلیں نمٹادیں۔عدالت عظمیٰ نے لاہور ہائی کورٹ کو حکم دیا کہ تین ماہ میں جے آئی ٹی کیخلاف درخواستوں پر فیصلہ سنایا جائے اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ اس حوالے سے بینچ تشکیل دیں۔چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں لوگ جاں بحق بھی ہوئے اور زخمی بھی، سانحہ کا فیصلہ ہر صورت ہونا چاہیے۔عوامی تحریک اور پنجاب حکومت نے جے آئی ٹی کو کام سے روکنے کیخلاف اپیلیں دائر کی تھیں۔ عوامی تحریک کے وکیل نے درخواست میں کہا کہ جے آئی ٹی کو کام سے روکنے کا فیصلہ بدنیتی پر مبنی ہے، ہائی کورٹ نے عدالت عظمیٰ کے حکم میں مداخلت کی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت عظمیٰ کو اس معاملے میں نہ گھسیٹیں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ پنجاب حکومت نے عدالت عظمیٰ میں نئی جے آئی ٹی بنانے کی یقین دہانی کرائی تھی، نئی جے آئی ٹی نہ بنتی تو صوبائی حکومت توہین عدالت کی مرتکب ہوتی، پولیس افسران نوٹس کے باوجود پیش ہوئے نہ جے آئی ٹی کی مخالفت کی۔