آل پاکستان تاجر کنونشن آج کراچی میں ہوگا

February 14, 2020 1:20 pm0 commentsViews: 44

خالق دینا ہال میں ہونے والے کنونشن میں بزنس مین گروہ کے سربراہ سراج قاسم تیلی مہمان خصوصی ہوں گے
چھوٹے تاجروں کا برا حال ہے، رئیل اسٹیٹ سیکٹر بھی تباہ ہوگیا، شرجیل گوپلانی
آل سٹی تاجر اتحاد کے زیراہتمام ’’آل پاکستان تاجر کنونشن‘‘ کراچی میں آج بروز جمعہ خالقدینا ہال میں منعقد ہوگا جس میں کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز میں برسراقتدار بزنس مین گروپ کے چیئرمین سراج قاسم تیلی مہمان خصوصی ہوں گے جبکہ ملک بھر سے تاجر تنظیموں کے سرکردہ رہنما خصوصی طور پر کنونشن میں شرکت کے لیے کراچی پہنچ گئے ہیں جن میں آل پاکستان انجمن تاجراں کے سرپرست اعلیٰ حاجی ہارون میمن، مرکزی چیئرمین خواجہ محمد شفیق، صدر افتخار فیروز خان، سینئر وائس چیئرمین عبدالمجید میمن، جنرل سیکرٹری نعیم میر، ڈپٹی جنرل سیکرٹری میر یاسین مینگل شامل ہیں، اس کے علاوہ انجمن تاجران پنجاب کے صدر شاہد غفور پراچہ، انجمن تاجراں خیبر پختونخوا ملک مہر الٰہی، صدر انجمن تاجراں بلوچستان عبدالرحیم کاکڑ، صدر انجمن تاجراں گلگت بلتستان غلام حسین اطہر اور سندھ سے شبیر میمن، عبدالحمید قریشی، جاوید قریشی، حاجی رحمت اللہ ساند، احمد شمسی، اسماعیل لائلپوریہ سمیت تاجر رہنما بڑی تعداد میں شرکت کریں گے۔ آل سٹی تاجر اتحاد ایسوسی ایشن کے صدر شرجیل گوپلانی کے مطابق آل پاکستان تاجر کنونشن میں تاجروں کو درپیش مسائل کے حوالے سے تاجر اظہار خیال کریں گے اور آئندہ کا لائحہ عمل ترتیب دیں گے شرجیل گوپلانی کا کہنا ہے کہ تاجروں کو صوبائی اور وفاقی ٹیکسوں کے شکنجے میں جکڑ لیا گیا ہے جس کے نتیجے میں ملک بھر کے تاجروں میں شدید بے چینی پائی جارہی ہے۔ ایف بی آر کی جانب سے تاجروں پر سیلز ٹیکس رجسٹریشن، ود ہولڈنگ ٹیکس، انکم ٹیکس اور ٹرن اوور ٹیکس کا بوجھ ڈالا جارہا ہے اور انہیں کئی قسم کے گوشوارے جمع کرانے کا پابند کیا جارہا ہے جس کی نہ ہی انہیں تربیت دی گئی ہے اور نہ ہی اتنے دستاویزی عمل کے لیے ان کے پاس وسائل اور وقت ہے۔ آل پاکستان انجمن تاجراں کے حکومت سے مذاکرات بھی ہوئے تھے لیکن اس کے باوجود مسائل حل نہیں ہو سکے ہیں۔ رواں ماہ سے شناختی کارڈ کی شرط عائد کر دی گئی ہے جس کی وجہ سے مارکیٹوں میں کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں اور بے یقینی کی کیفیت پائی جارہی ہے۔ آل پاکستان انجمن تاجراں کے مرکزی سیکرٹری جنرل نعیم میر کے مطابق کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ اس بھاری بھرکم ڈاکومنٹیشن سے نجات دی جائے، عام دکاندار کو ایف بی آر کے شکنجے میں کسنے سے بچایا جاسکے تاکہ عام دکاندار ذہنی سکون کے ساتھ اپنا کاروبار کر سکے ہم ٹیکس دینے کے لیے تیار ہیں ہم صرف ٹیکس کے طریقہ کار کو آسان اور سہل کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تاجر رہنما احمد شمسی کے مطابق تاجروں پر ٹیکسوں کا بھاری بھرکم بوجھ لامحالہ صارفین پر منتقل ہوگا جس کے نتیجے میں مہنگائی مزید بڑھے گی، اس لیے ٹیکسوں کا مسئلہ صرف تاجروں کا نہیں پورے پاکستان کے عوام کا ہے جس کو حل کرنا چاہیے تاجر رہنما اسماعیل لالپوریہ نے بھی حکومتی اقدامات کو تاجروں کے لیے مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہاکہ موجودہ حالات میں تاجروں کے لیے کاروبار کرنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے تاجر کنونشن میں ملک بھر کے تاجر سرجوڑ کر بیٹھیں گے اور مستقبل کے لیے کوئی لائحہ عمل وضع کریں گے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ حکومت انداز مفاہمت اور مصالحت کے بجائے حاکمانہ ہے اور حکومتی معاشی ٹیم تاجروں کے حقیقی تحفظات کو دور کرنے کے بجائے یہ طے کر چکے ہیں کہ سارے تاجر ٹیکس چور ہیں اور وہ ٹیکس دینا نہیں چاہتے حالانکہ تاجر ٹیکس دینا چاہتے ہیں لیکن وہ پیچیدہ ٹیکس نظام سے خوفزدہ ہے جس کے لیے حکومتی معاشی ٹیم کو سنجیدگی سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، تاجروں سے مسلسل رابطے، مشاورت اور افہام و تفہیم کی نشستیں ہونی چاہئیں تاجروں کا اعتماد بحال کرنے اور ایف بی آر کے پیچیدہ نظام کو آسان اور رشوت ستانی، بلیک میلنگ کی شکایات کو دور کرنے کے لیے موثر اقدامات کرنے پڑیں گے نہیں تو نئے ٹیکس نظام پر موثر انداز میں پیشرفت نہیں ہو سکے گا۔ تاجروں کے مطابق بھاری بھرکم ڈاکومنٹیشن کے لیے ہر دکاندار کو ایک پروفیشنل اکائونٹنٹ رکھنا ہوگا جو بھاری تنخواہ لے گا، سال میں تین قسم کی ٹیکس ریٹرن جمع کروانے کے لیے ٹیکس وکیل کی خدمات کا بھاری معاوضہ بھی ادا کرنا ہوگا اور آڈٹ میں غلطیوں اور کوتاہیوں کے سامنے آنے پر بھاری جرمانہ علیحدہ سے ادا کرنا ہوگا اور سزائیں بھگتنا پڑیں گی۔ اس تناظر میں تاجروں کی جانب سے فکسڈ ٹیکس کا نظام وضع کرنے کا مطالبہ کیا گیا جس کو جولائی میں ہونے والے ملک گیر ہڑتال کے بعد تسلیم کرتے ہوئے فکسڈ ٹیکس پالیسی متعارف کی گئی ہے لیکن اس کے عملی شکل کے حوالے سے اب بھی تاجروں کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ ان تمام ایشوز کو دیکھتے ہوئے آل پاکستان تاجر کنونشن کو تاجروں کی جانب سے کافی اہمیت دی جارہی ہیں اور ان کی نگاہیں اس کے مشترکہ لائحہ عمل پر مرکوز ہیں۔