ڈاکٹر جمیل جالبی کی اردو کیلئے خدمات ناقابل فراموش ہیں، مقررین

February 19, 2020 2:03 pm0 commentsViews: 6

اردو ادب میں ان کا کردار مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے، پیرزادہ قاسم، انھوں نے طلباء یونین کو ایک نئی سمت دی، شہلا رضا کا اظہار خیال
کراچی جیم خانہ کی ادبی کمیٹی کی جانب سے منعقدہ تقریب میں اردو ادب کے عظیم مفکر ، مصنف و محقق کو خراج عقیدت پیش کیا گیا
کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی جم خانہ لائبریری و ادبی کمیٹی اور پیرالیل کے اشتراک سے اردو ادب کے عظیم مفکر، مصنف و محقق ڈاکٹر محمد جمیل جالبی کی یاد میں ایک تقریب بعنوان ’’بیاد ڈاکٹر جمیل جالبی‘‘ کراچی جم خانہ میں منعقد کی گئی۔ تقریب کی مہمان خصوصی صوبائی وزیر ترقی نسواں سندھ سیدہ شہلا رضا تھیں جبکہ تقریب کی صدارت سابق وائس چانسلر جامعہ کراچی پروفیسر پیرزادہ قاسم اور نظامت ڈاکٹر ضیغم نے کی۔ تقریب سے کراچی جم خانہ لائبریری و ادبی کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر نفیس، پروفیسر سحر انصاری، شکیل فاروقی، نوشابہ صدیقی، ڈاکٹر عالیہ امام، ڈاکٹر جاوید منظر اور ڈاکٹر شاہد ضمیر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات اور اردو ادب کے چاہنے والوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ صوبائی وزیر ترقی نسواں سیدہ شہلا رضا نے اپنے خطاب میں کہاکہ ڈاکٹر محمد جمیل جالبی کا بحیثیت وائس چانسلر جامعہ کراچی کے دور کو تاریخی دور تعبیر کیا جاتا ہے جس میں طلبہ یونین کو ایک نئی سمت ملی، سابق وائس چانسلر جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم نے اپنے خطاب میں ڈاکٹر محمد جمیل جالبی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ وہ ایک رول ماڈل شخصیت تھے، اردو ادب میں ان کا کام ہم سب کے لیے مشعل راہ ہے، دوران خطاب ڈاکٹر عالیہ امام کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر جمیل اپنی تحریروں میں یہ واضح کر چکے ہیں کہ اردو زبان کا کسی بھی دوسری زبان سے کوئی اختلاف نہیں ہے، انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی اردو زبان کے حق میں فیصلہ صادر کیا ہے لہٰذا اب ہمارا فرض ہے کہ ہم اردو کے فروغ اور نفاذ کے لیے ڈاکٹر جالبی کی طرح اپنا کردار ادا کریں۔ پروفیسر سحر انصاری نے اپنے خطاب میں کہاکہ ڈاکٹر جالبی نے اردو ادب کو مغربی ادب سے بہت خوبصورتی کے ساتھ روشناس کرایا۔ اس موقع پر نوشابہ صدیقی کا کہنا تھا کہ دوران طالب علمی ڈاکٹر جالبی سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا، ان کا کہنا تھا کہ اردو کا فروغ اور نفاذ ڈاکٹر جالبی کی زندگی کا منشور تھا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر شاہد ضمیر، ڈاکٹر جاوید منظر، ڈاکٹر نفیس، ڈاکٹر شکیل فاروقی اور ڈاکٹر ضیغم نے ڈاکٹر محمد جمیل جالبی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ اردو میں ان کا کام ایک ذخیرہ کی مانند ہے جس سے آئندہ آنے والی نسلیں استفادہ حاصل کریں گی۔