٭ سندھ ایجوکیشن فائونڈیشن کا تعصب ٭ اسکالر شپ پروگرام میں کراچی نظر انداز

February 22, 2020 12:48 pm0 commentsViews: 15

حیدرآباد ،میرپور خاص، سکھر، لاڑکانہ کے طلبہ و طالبات کو مالی معاونت فراہم کی جائے گی
کس قانون کے تحت اسکالر شپ پروگرام سے کراچی کے ہونہار اور قابل بچوں کو روکا جارہا ہے سمجھ سے بالا تر ہے
کراچی (نیوز ڈیسک) حکومت سندھ کے ادارے سندھ ایجوکیشن فائونڈیشن نے تعصب پرمبنی اسکالر شپ کا اشتہار شائع کر دیا۔ کراچی کے علاوہ صوبے کے تمام اضلاع کے ذہین اور قابل طلبہ و طالبات درخواستیں دینے کے اہل قرار۔ اسکالر شپ نویں سے بارہویں کلاس تک دی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق حکومت سندھ کے ذیلی ادارے سندھ ایجوکیشن فائونڈیشن کی جانب سے نویں کلاس تا بارہویں کلاس تک کے لیے اسکالر شپ پروگرام کا اعلان کیا گیا تھا جس کااشتہار بھی مشتہر کر دیا گیا ہے جس کے مطابق اس پروگرام کے تحت نویں کلاس تا بارہویں کلاس تک کی تعلیم کے لیے مالی معاونت کی جائے گی۔ طلبہ و طالبات کو ٹیوشن فیس، یونیفارم، سیکھنے کا مواد، رہائش، طعام اور وظیفے کے سلسلے میں مالی معاونت بھی دی جائے گی۔ اس اسکالر شپ کے اہل ایسے آٹھویں جماعت کے طالب علم ہوں گے جوکہ SE&LD اسکول کے کم ازکم 3 سال تک حقیقی طالبعلم رہے ہوں۔ حکومت سندھ کے ادارے سندھ ایجوکیشن فائونڈیشن کی جانب سے جو اشتہار جاری کیا گیا ہے اس میں اسکالر شپ پروگرام سندھ کے تمام اضلاع حیدرآباد، میرپورخاص، سکھر، لاڑکانہ اور شہید بے نظیر آباد کے بچوں کے لیے ہے تاہم کراچی کو اس فہرست میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔ اسکالر شپ پروگرام میں درخواست دینے کی آخری تاریخ 28 فروری 2020ء ہے۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ سندھ ایجوکیشن فائونڈیشن نے تعصب پر مبنی اسکالر شپ پروگرام کا جو اشتہار جاری کیا ہے وہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ کس قانون کے تحت اس اسکالر شپ پروگرام سے کراچی کے ہونہار اور قابل بچوں کو روکا جارہا ہے۔