اذان اورباجماعت نمازجاری رہے گی، مساجد کھلی رکھی جائیں گی، علماء کرام

March 26, 2020 11:27 am0 commentsViews: 73

حکومت اپنے اقدامات کے ذریعے لوگوں کو توبہ و استغفار کی طرف متوجہ کرے، میڈیا سے فحاشی اور بے حیائی کے پروگرام بند کئے جائیں
باجماعت نماز گھر والوں اور ایک محرم خاتون کے ساتھ بھی ہوسکتی ہے، مختلف مکاتب فکر کے علماء نے مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا
کراچی(اسٹاف رپورٹر) کرونا وائرس سے محفوظ رہنے کے لئے تمام مسالک کے علمائے کرام نے مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا ہے اس ضمن میں علما ئے کرام نے مسلمانوں پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا وبا ء سے نجات کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے کثرت سے استغفار کیا جائے تاکہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت وعنایت سے اس وبا ء کو ہمارے اوپر سے ہٹالیں اس سلسلہ میں میڈیا آگاہی بیدار کرنے کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کرے ۔ مشترکہ اعلامیہ کا اعلان مفتی تقی عثمانی نے گورنرہائوس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پرمفتی منیب الرحمن ،مولانا شہنشاہ حسین نقوی ، مفتی عبدالرحیم، مولانا عبد الکریم ، مولانا محمد سلفی ، مفتی یوسف کشمیری ، مولانا عبد الوحید اور مولانا امین سمیت انڈس اسپتال کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ڈاکٹر عبدلباری بھی موجود تھے ۔ مفتی تقی عثمانی ، مفتی منیب الرحمن اور مولانا شہنشاہ حسین نقوی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کرونا وبا ء کے پیش نظر متفقہ قرار داد منظور کی گئی جس پرہر فقہ سے تعلق رکھنے والے مسلمان کو عمل کرنا چاہئے ۔ مفتی تقی عثمانی نے اس اعلامیہ کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی جبکہ مولانا شہنشاہ حسین نقوی نے اہل تشعی مکتب کی تمام تنظیموں کی جانب سے مشترکہ اعلان کیا ۔ مفتی منیب الرحمن نے اعلامیہ کا متن پڑھ کرسناتے ہوئے کہاکہ آج کورونا وائرس سے متعلق تنظیمات مدارس دینیہ کی متفقہ ہدایات جاری کی جارہی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ وہائیں درحقیقت اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے ہماری اصلاح کے لئے ایک تنبیہ ہے اس موقع پر پوری قوم توبہ و استغفار اور رجو الی اللہ کی طرف متوجہ ہو ، نیز حکومت اپنے اداروں کے ذریعہ لوگوں کو توبہ و استغفار اور رجوع الی اللہ کی طرف متوجہ کرے اور میڈیا سے فحاشی اور بے حیائی کے پروگرام بند کئے جائیں ،مساجد کھلی رکھی جائیں گی پنج وقتہ اذان و اقامت اور با جماعت نماز جاری رہے گی ، تمام لوگ وضو گھر سے کرکے آئیں اور ہر قدم پر نیکی پائیں ،سنتیں گھر میں پڑھ کر آئیں بعد کی سنتیں بھی واپس جاکر پڑھیں ، کیونکہ طبی طور پر اس سے بیماری کے پھیلائو کا اندیشہ ہے اگر طبی وجوہات کی بنیاد پر حکومت نمازیوں کی تعداد پر کوئی پابندی عائد کرے یا کسی خاص عمر کے مسلمان کو مسجد جانے سے منع کرے تو شرعاً وہ معذور سمجھے جائیں گے ، جماعت اپنے گھر والوں بلکہ کسی ایک محرم خاتون کے ساتھ بھی ہو سکتی ہے اگر مزید عذر ہو تو تنہا پڑھے ، پچاس سال سے زائد عمر کے لوگ اور ایسے افراد جنھیں وائرس کا شبہ ہے جن کو کھانسی ، نزلہ ، زکام اور بخار ہو اور جن کے امراض کی اس وائرس سے کھانسی بڑھ جانے کا خطرہ ہو وبا ء کے پورے دور میں مساجد میں نہ آئیں ۔