نیب اختیارات میں کمی کا فیصلہ

April 29, 2020 2:49 pm0 commentsViews: 4

اسلام آباد: حکومت نے نیب اختیارات میں کمی کا فیصلہ کیا ہے اور اس سے متعلق نئے ترمیمی آرڈیننس کا مسودہ بھی تیار کرلیا گیا ہے۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکومت نے نئے نیب ترمیمی آرڈیننس کا مسودہ تیار کرلیا ہے جس کے مطابق چیئرمین نیب سے ملزمان کی گرفتاری کا اختیار واپس لے لیا جائے گا جب کہ ملزمان کو 90 دن حراست میں رکھنے اور کسی مقام کو سب جیل قرار دینے کا اختیار بھی ختم کردیا جائے گا۔

مجوزہ مسودہ کے مطابق ریفرنس دائر ہونے کے بعد عدالت ملزم کے وارنٹ گرفتاری جاری کر سکے گی، احتساب عدالت حاضری یقینی بنانے کے لیے ملزم سے ضمانتی مچلکے بھی طلب کر سکے گی، مچلکوں کے باوجود عدم حاضری پر عدالت وارنٹ گرفتاری جاری کرسکے گی جب کہ 50 کروڑ سے کم کی کرپشن پر نیب کارروائی نہیں کر سکے گا، نیب 5 سال سے زائد پرانے کھاتے بھی نہیں کھول سکے گا جب کہ ٹیکس اور لیوی کے ایشوز بھی نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں ہوں گے۔

مسودہ میں کہا گیا ہے کہ عوامی عہدیداروں کے خلاف کارروائی کے لیے مالی فوائد کے شواہد لازمی ہوں گے، اخراجات کے لیے کسی کی مدد لینے والا زیر کفالت تصور ہوگا، نیب کسی ملزم کے خلاف ضمنی ریفرنس دائر نہیں کر سکے گا جب کہ کرپشن کے ملزمان دوران تفتیش وکیل کو بھی ساتھ لے جا سکیں گے، نیب کسی گمنام شکایت پر کارروائی نہیں کر سکے گا جب کہ منتخب نمائندوں کا ٹرائل بھی اسی صوبے میں ہوگا جہاں سے وہ الیکشن جیتیں گے۔

مسودہ میں مزید کہا گیا ہے کہ کرپٹ افراد سزا کے بعد بھی پلی بارگین کر سکیں گے، رضا کارانہ رقم واپسی پر 5 سال کی نااہلی کا سامنا کرنا ہوگا جب کہ ریفرنس دائر ہونے تک نیب حکام کسی ملزم کے خلاف کوئی بیان جاری نہیں کر سکتے، اس کے علاوہ میڈیا پر بیان دینے والے نیب افسر کو ایک سال تک قید اور ایک لاکھ جرمانہ ہوگا جب کہ آرڈیننس کا اطلاق تمام زیرالتواء مقدمات پر بھی ہوگا۔

نئے نیب آرڈیننس پرحکومت اپوزیشن سے بھی مشاورت کرے گی، اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان اسپیکر قومی اسمبلی، اسدعمر اور پرویز خٹک کو اپوزیشن سے بات کرنے کی ذمہ داری سونپ چکے ہیں، حکومتی کمیٹی اپوزیشن کو اعتماد میں لینے کے بعد نیب آرڈنینس پر معاملات آگے بڑھائے گی۔