نویں اور گیارہویں کا امتحان نہیں ہوگا، شفقت محمود

May 14, 2020 6:50 pm0 commentsViews: 4

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ نویں اور گیارہویں جماعت کا امتحان نہیں ہوگا، جن کے پاس نویں اور گیارہوں کا نتیجہ ہے، اُنہیں دسویں اور بارہویں میں پروموٹ کردیاگیا۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ چار کیٹگریز کے طالب علموں کے لیے ستمبر اور نومبر کے درمیان امتحان لیا جا سکتاہے، گیارہویں کے نتائج سے غیرمطمئن طالبعلم اور جو چند مضامین میں ہی پاس ہوئے وہ امتحان دے سکیں گے۔ جو چالیس فیصد سے زیادہ مضامین میں فیل ہوئے وہ بھی اسپیشل امتحان دے سکیں گے۔ اسپیشل امتحان کے خواہشمند یکم جولائی تک اپنے بورڈ کو آگاہ کردیں۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر تعلیم نے کہا ہے کہ نویں اور دسویں کے بچوں کے امتحانات نہیں ہوں گے انہیں اگلی کلاس دیدی جائے گی، جبکہ دسویں اور بارہویں جماعت کے طالب علموں کو پروموٹ کر دیا جائے گا۔ شفقت محمود نے بتایا کہ آج تمام صوبائی وزراء تعلیم کا اجلاس ہوا اور بنیادی فیصلے ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ قومی رابطہ کمیٹی نے تمام تعلیمی ادارے 15 جولائی تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ شفقت محمود نے کہا کہ 40 لاکھ بچوں نے نویں، دسویں، گیارہویں، بارہویں کے امتحانات دینے تھے، تاہم بچوں کی صحت کو مد نظر رکھتے ہوئے ایسا فارمولا بنانا تھا کہ سال بھی ضائع نہ ہو۔

وفاقی وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ آج اہم فیصلے ہوئے ہیں جن کے مطابق نویں اور گیارہویں کا امتحان نہیں ہوگا، بلکہ ان کلاسوں میں موجود طلبہ کو اگلی کلاسوں میں بھیج دیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ دسویں اور بارہویں جماعت کے طالب علموں کا بھی امتحان نہیں ہوگا اور انہیں اگلی کلاسوں میں پروموٹ کر دیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ جن بچوں کو دسویں اور بارہویں جماعت میں پروموٹ کیا جائے گا وہ آئندہ صرف دسویں اور بارہویں جماعت کے امتحانات دیں گے۔ شفقت محمود کا کہنا تھا کہ جائزے سے پتہ چلا ہے کہ نویں کے مقابلے میں دسویں کا نتیجہ بہتر ہوتا ہے۔

وفاقی وزیر تعلیم نے کہا کہ چار کیٹگریز کے طالب علموں کے لیے ستمبر، نومبر کے درمیان امتحان لیا جا سکتا ہے۔

ایک کیٹیگری میں وہ طلبہ ہیں جو گیارہویں کے نمبرز سے خوش نہیں اور بارہویں میں بہتری لانا چاہتے تھے۔
دوسری کیٹیگری میں وہ طلبہ ہیں جو اس سال اکٹھے امتحان دینے جا رہے تھے۔
تیسری کیٹیگری میں وہ طلبہ ہیں جو کچھ مضامین میں بہتری کے امتحان دینا چاہتے تھے۔
چوتھی کیٹیگری میں وہ طلبہ ہیں جو 40 فیصد سے زیادہ مضامین فیل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ گیارہویں کے نتائج سے غیر مطمئن طالبعلم ستمبر، نومبر میں اسپیشل امتحان دے سکتے ہیں۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ ایسے طالب علم جو صرف چند مضامین میں ہی پاس ہوئے تھے وہ ستمبر، نومبر میں امتحان دے سکتے ہیں، جبکہ ایسے طالب علم جو چالیس فیصد سے زائد مضامین میں فیل ہوئے وہ ستمبر، نومبر میں امتحان دے سکتے ہیں۔

شفقت محمود نے بتایا کہ ایسے طالب علم جو اسپیشل امتحان کے خواہشمند تھے وہ یکم جولائی تک اپنے متعلقہ بورڈز کو آگاہ کردیں۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایسے طالب علم جن کو دسویں اور بارہویں میں پروموٹ کیا جائے گا ان کو تین فیصد اضافی نمبرز دیے جائیں گے۔