ہیلی کاپٹر اور خلائی گاڑی کے ساتھ، نیا خلائی مشن مریخ کی سمت گامزن

July 31, 2020 3:02 pm0 commentsViews: 1

فلوریڈا: ناسا نے مریخ کی جانب اب تک سب سے جدید خلائی گاڑی اور پہلی مرتبہ ہیلی کاپٹر مریخ کی جانب روانہ کردیا ہے جسے اٹلس پنجم راکٹ کے ذریعے فلوریڈا کے کیپ کناورل سے سرخ سیارے کی سمت بھیجا گیا ہے۔ سات ماہ بعد فروری 2021 میں یہ مشن مریخ کی سطح پر اترے گا جس کا مقصد ایک جانب تو مریخی پتھر جمع کرنا ہے تو دوسری جانب یہ سیارے پر زندگی کی ممکنہ آثار کی تلاش بھی کرے گا۔ اچھی بات یہ ہے کہ زمین چھوڑتے ہی اس مشن نے اپنی خیریت کی خبر دیدی ہے۔

اس خلائی روور کا نام ’پرسیویئرنس‘ اور اس کے ساتھ ہیلی کاپٹر کا نام ’انجینیئٹی‘ رکھا گیا ہے۔ اس میں سے پرسیویئرنس کا مطلب مشکلات کے باوجود مستقل مزاجی سے آگے بڑھنا ہے جبکہ انجینیئٹی کا مطلب ذہانت بھری اختراع ہوتا ہے۔ اس میں روور کی جسامت ایک کار کے برابر ہے لیکن اس میں چھ عدد پہیئے نصب ہے۔ پرسیویئرنس میں جدید ترین لیزر کیمرہ، زیرِ زمین ریڈار، موسمیاتی اسٹیشن، دو طرح کے جدید ترین کیمرے ، اور طویل بازو پر نصب ایک کیمیائی تجربہ گاہ بھی لگائی گئی ہے۔

اس مشن کے سربراہ عمر بیز نے بتایا کہ سات ماہ بعد یہ مشن مریخ پر پہنچ جائے گا۔ اس میں ایک چھوٹا سا ہیلی کاپٹرمشکل سے دو کلوگرام وزنی ہے جسے مریخ کی فضا کے مطالعے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ ہیلی کاپٹر شمسی توانائی سے پرواز کرتا ہے اور وہ گاڑی کو راستہ دکھانے میں بھی مدد کرتا ہے۔

خلائی گاڑی کو ایک گہرے گڑھے جزیرو میں اتارا جائے گا اور شاید اربوں سال قبل یہاں کوئی جھیل موجود تھی ۔ واضح رہے کہ یہ زندگی کے آثار دیکھنے کی ایک بہترین جگہ ہوسکتی ہے کیونکہ ایک طویل عرصے تک یہاں پانی موجود تھا۔ روور پلوٹینیئم کی قوت سے چلتا ہے اوریہ ارضیاتی نمونے جمع کرے گا۔

واضح رہے کہ 17 جولائی کو اسے خلا کے حوالے کرنا تھا لیکن اس کی تاریخ تین مرتبہ بدلی گئی اور 30 جولائی کو بہترین موسم کے تحت اسے مریخ کی سمت بھیجا گیا ہے۔

لانچنگ کے ایک گھنٹے بعد پورا مشن راکٹ سے الگ ہوگیا اور اب اپنی منزل کی جانب گامزن ہے۔ اگر مریخ پر کروڑوں اربوں سال قبل حیات کے باریک آثار موجود ہیں تو جدید تجربہ گاہ اسے پہچاننے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

پہلے اس مشن کا نام مارس 2020 رکھا گیا تھا لیکن اسکول کے بچوں کے درمیان اس کا نام رکھنے کا ایک مقابلہ کرایا گیا جس کے بعد اس کا نام ’پریزروئینس‘ رکھا گیا ہے۔ کورونا وبا کے بعد خلائی مشن کا پورا اسٹاف چھوٹی ٹیموں کی صورت میں کام کرنے لگا جس کی وجہ سے مشن میں تاخیر بھی ہوئی۔ واضح رہے کہ اس منصوبے سے سینکڑوں سائنسداں، انجینیئر اور دیگر اسٹاف وابستہ ہے۔