گوگل نے کوانٹم کمپیوٹر کے ذریعے دنیا کی پہلی سیمولیشن تیارکرلی

September 1, 2020 3:06 pm0 commentsViews: 24

کیلیفورنیا: انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی کوانٹم کمپیوٹر پر سیمولیشن ( نقل) تیارکی گئی ہے اور اس پیشرفت سے بالکل مختلف طرح کے کوانٹم کمپیوٹر کی اہمیت سامنے آئی ہے۔ یہ تجربہ گوگل کے ماہرین نے انجام دیا ہے جس میں ایک سادہ کیمیائی تعامل (ری ایکشن) کے رونما ہونے کی نقل بنائی گئی ہے اور اس سے کوانٹم کمپیوٹر کا عملی پہلونمایاں ہوا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ ایٹمی اور سالماتی (مالیکیولر) سطح پر کوانٹم میکانیات کے اصول نافذ ہوجاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کو بیان کرنے اور سمجھنے میں کوانٹم (مقداری) کمپیوٹر نہایت اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ روایتی کمپیوٹر بٹس یا بائٹس استعمال کرتے ہوئے کام کرتے ہیں جبکہ کوانٹم کمپیوٹر، حساب کتاب لگانے یا معلومات جمع کرنے میں کوانٹم بٹس یا کیوبٹس استعمال کرتے ہیں۔ تاہم، کوانٹم کمپیوٹروں کو بڑے ایٹموں اور پیچیدہ مالیکیول کی سیمولیشن کے لیے انتہائی اور ضروری درستگی انجام دینے میں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔

اب گوگل میں سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے وہاں موجود سائیکامور نامی کوانٹم کمپیوٹر پر ایک کیمیائی عمل کی درست ترین کوانٹم نقل تیار کی ہے۔ 2019 میں اسی کمپیوٹر نے ایک ایسا ریاضیاتی مسئلہ حل کیا تھا جو کسی مقررہ وقت میں عام کمپیوٹروں کے بس میں نہ تھا۔ اس کے بعد ہی سائیکامور پوری دنیا میں شہرت پاگیا تھا۔

اس بار کوانٹم کمپیوٹر نے ڈایازین سالمے کی نقل بنائی ہے جس میں ہائیڈروجن کے دو اور نائٹروجن کے دو ایٹم پائے جاتے ہیں۔ اس میں ہائیڈروجن ایٹم، نائٹروجن ایٹموں کے قریب رہ کر مختلف طریقوں سے جڑتے ہیں۔ واضح رہے کہ سائنسداں روایتی کمپیوٹروں سے پہلے ہی اس کی نقل بناچکے تھے اور اب کوانٹم کمپیوٹر سے اس کی تصدیق ہوگئی ہے۔

گوگل سے وابستہ ریان بابوش نے بتایا کہ سالماتی تعامل بہت سادہ ہے اور ضروری نہیں کہ یہ کام کوانٹم کمپیوٹر ہی کرسکے۔ بس ہم یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ کمپیوٹر اس کا اہل ہے جو کوانٹم کمپیوٹنگ میں ایک بہت بڑا قدم بھی ہے۔

’ کیمیا کا جو عمل ہم نے کوانٹم کمپیوٹر پر کیا ہے وہ بنیادی طور پر ایک مختلف پیمانے پر انجام دیا گیا ہے۔ بصورتِ دیگر آپ ایک کاغذ اور پینسل سے خود اپنے ہاتھوں سے یہ عمل کرسکتے ہیں۔ لیکن اس کے عملی مظاہرے کے لیے ہمیں ایک کمپیوٹر درکار تھا۔

ریان کہتے ہیں کہ اسی بنا پر مزید پیچیدہ تعاملات کے لیے الگورتھم بنانا بھی قدرے آسان ہوگا۔ بڑے سالمات کے لیے زیادہ کیوبٹس درکار ہوں گے اور تخمینے میں تھوڑا ردوبدل کرنا ہوگا بلکہ بہت جلد کوانٹم نقول سے نئے سالمات بھی بنانا ممکن ہوسکے گا۔