سندھ حکومت کو ایم بی بی ایس داخلہ ٹیسٹ نہ لینے کا حکم

October 17, 2020 12:36 pm0 commentsViews: 9

کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے سندھ حکومت کو 18 اکتوبر کو ایم بی بی ایس میں داخلوں کیلیے انٹری ٹیسٹ لینے سے روکتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور دیگر کو نوٹس جاری کردیے۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کے روبرو ایم بی بی ایس میں داخلے کے لیے انٹری ٹیسٹ کے تنازع سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی، درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ صوبے نے انٹری ٹیسٹ کے لیے 18 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی ہے، پی ایم ڈی سی کے پرانے قانون کے تحت صوبے کے 30 ہزار طلبہ کا انٹری ٹیسٹ لیا جارہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پی ایم سی کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ نیا قانون آچکا ہے ملک بھر میں این ٹی ایس کے یکساں سلیبس کے تحت انٹری ٹیسٹ لیا جائے گا، طلبہ کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ صوبے کے تحت ہونے والے این ٹی ایس ٹیسٹ کو ملتوی کیا جائے، درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ 30 ہزار طلبہ کے امتحانات کے لیے انتظامات مکمل کرلیے ہیں ٹیسٹ لینے کی اجازت دی جائے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے وفاق اور صوبے نے اس معاملے کو انا کا مسئلہ کیوں بنا لیا ہے، ہم بچوں کا مستقبل ضائع ہونے سے بچانا چاہتے ہیں، ہم دونوں درخواستوں پر وفاق کو نوٹس جاری کرتے ہیں ان کا جواب آنے دیں پھر درخواستوں پر فیصلہ کریں گے، نئے اور پرانے قانون کا تنازع ہے تنازع حل ہونے تک ٹیسٹ ملتوی بھی کیا جاسکتا ہے۔

یونیورسٹیز کے وکیل سرمد ہانی ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ 30 ہزار بچوں کے مستقبل کا مسئلہ ہے ٹیسٹ ملتوی نہیں کرسکتے، جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے تیز بارش ہوجاتی ہے امتحانات بھی تو ملتوی کردیے جاتے ہیں، کورونا وبا کی وجہ سے بھی امتحانات ملتوی کیے گئے۔ اگر امتحانات لینا چاہتے ہیں تو اپنی ذمے داری پر لے لیں، وفاق اور صوبے نے انا اور ضد کا مسئلہ کیوں بنالیا ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل کاشف پراچہ نے موقف اختیار کیا کہ 3 دن کا وقت دیں ہم تحریری جواب جمع کرادیں گے، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے موقف اختیار کیا کہ ہمیں کیس کے بارے میں کچھ دیر پہلے پتہ چلا ہے صوبائی وزیر صحت سے مشاورت کرنے کی مہلت دی جائے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے موقف اختیار کیا کہ ان کو بچوں کے مستقبل کی فکر نہیں ہے ٹینٹ، کرسیوں اور پیسے بچانے کا مسئلہ ہے،عدالت نے ریمارکس دیے درخواستواں کے حتمی فیصلے تک انٹری ٹیسٹ نہیں لیا جاسکتا۔