ٹیراہرٹز امواج سے ابتدائی کینسر کی مؤثر شناخت ممکن

October 21, 2020 1:18 pm0 commentsViews: 13

جاپان: چھاتی کا سرطان (بریسٹ کینسر) اس وقت سامنے آتا ہے جب وہ اپنی جڑیں پھیلا چکا ہوتا ہے۔ لیکن اب اوساکا یونیورسٹی کے ماہرین نے ٹیراہرٹز ٹیکنالوجی کی مدد سے بریسٹ کینسر کی ابتدائی تشخیص میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اس کی بدولت صرف نصف ملی میٹر کی رسولی کی شناخت بھی کی جاسکتی ہے۔ اوسکا یونیورسٹی اور فرانس کے کچھ اداروں نے مل کر ٹیراہرٹز ٹیکنالوجی کو استعمال کیا ہے۔ تصویر کشی کے اس عمل کے ذریعے وہ رسولیاں بھی دیکھی جاسکتی ہیں جن کی شناخت اس سے پہلے ممکن نہ تھی۔ اس کینسر کے نمونے کو رنگنے (اسٹیننگ) کا عمل بالکل نہیں ہوتا اور تصویر بالکل شفاف ظاہر ہوتی ہے۔ اس طرح ہزاروں لاکھوں خواتین کو موت کے منہ میں جانے سے بچانا ممکن ہوسکے گا۔ اس کی وجہ ہے کہ ابتدائی شناخت کے بعد کینسر کو قابو کرنا آسان ہوتا ہے۔

بریسٹ کینسر دو طرح کے ہوتے ہیں حملہ آور( انویسوو) اور غیرحملہ آور (نان انویسیوو) ۔ لیکن پہلی خطرناک قسم میں کینسر چھاتی کی نلیوں (ڈکٹ) میں چلاجاتا ہے اور تیزی سے چھاتی اور پورے جسم میں پھیل سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں اقسام کا کینسر جلد شناخت ہونے کے بعد اس کا علاج اور پیچیدگیوں سے بچنا آسان ہوجاتا ہے۔

ٹیراہرٹز کی سطح پر دیکھنے کا عمل ہمیں چند ملی میٹر کی تبدیلی یا رسولی بھی دکھاسکتا ہے۔ اس میں لیزر سے ٹیراہرٹز شعاعیں خارج کرکے براہِ راست چھاتی کے سرطان کے نمونے پر ڈالی جاتی ہیں۔

اس تکنیک کے بانی کوسوکے اوکاڈے اور ان کے ساتھیوں نے اس عمل سے 0.5 ملی میٹر سے چھوٹی رسولی دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ اس میں زبردست کامیابی ملی ہے اور روایتی طریقوں کے مقابلے میں یہ عمل 1000 گنا زائد مؤثر اور قابلِ عمل ہے۔

اگلے مرحلے میں اسے مشین لرننگ سے گزار کر مزید بہتر بنایا جائے گا۔