کراچی میں بارش کے دوران حادثات 12 افراد ہلاک سیلاب کا خطرہ سندھ کے46 مقامات حساس قرار

July 24, 2015 4:28 pm0 commentsViews: 28

کراچی میں بارش ہونے کے بعد انتظامیہ کے دعوے دھرے رہ گئے، سٹرکوں پر پانی جمع ہونے سے درجنوں گاڑیاں پھنس گئیں
اورنگی ٹائون، شیر شاہ، پاک کالونی، ملیر غازی گوٹھ، کینٹ اسٹیشن، ناظم آباد چھوٹا میدان، کورنگی ریس کورس گرائونڈ میں کرنٹ لگنے سے ہلاکتیں ہوئیں، لانڈھی میں14 سالہ لڑکا پانی کے جوہڑ میں ڈوب کر ہلاک ہو گیا
بارش کا پانی سٹرکوں پر کھڑا ہونے کے بعد شہر میں ٹریفک کا نظام درہم برہم، اورنگی ٹائون، بھینس کالونی اور ڈالیما، گلشن اقبال میں آسمانی بجلی گرنے سے دو گاڑیاں تباہ، پولیس کی جانب سے تصدیق نہیں ہو سکی
کراچی( نمائندہ خصوصی) شہر میں جمعرات کی شام ہونیوالی بارش نے انتظامیہ کے دعوئوں کی قلعی کھول دی اور سارے کے سارے دعوے دھرے رہ گئے‘ بارش کے بعد شہر کی اکثر سڑکوں پر پانی جمع ہے جو آج صبح تک صاف نہیںکیا جاسکا‘ بارش کے دوران حادثات میں 12 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے‘ زیادہ تر ہلاکتیں کرنٹ لگنے سے ہوئیں‘د وسری طرف سندھ میں سیلاب کے خطرے کے باعث 46 مقامات کو حساس قرار دیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق جمعرات کی شامشہر بھر میں پون گھنٹے تک ہونے والی موسلا دھار بارش سے شہر بھر کے گلی محلوں سمیت شہر کی اہم شاہراہوں پر بارش کا پانی کھڑا ہوگیا،اور انتظامیہ کے دعوی دھرے کے دھرے رہے گئے،شہر کی سڑکوں پر جگہ جگہ پانی جمع ہونے کے نتیجے میں سڑکوںپر چھوٹی بڑی موٹر گاڑیاں بھی خراب ہوگئی اور ان خراب ہوجانے والی گاڑیوں اور بارش کے پانی نے سڑکوں پر ٹریفک کے نظام کو درہم برہم کرکے رکھ دیا اور بدترین ٹریفک ہوگیا،جن علاقوں میں ٹریفک جام کا سلسلہ رہا ان میں، مین شاہراہ فیصل، ایم اے جناح روڈ، لائنز ایریا،، خلیق الزمان روڈ، عبداللہ ہارون روڈ، نیو ایم اے جناح روڈ نزد پیپلز چورنگی، کورنگی کراسنگ، نیٹی جیٹی پل ،ماڑی پور روڈ، شاہراہ پاکستان،جہانگیر روڈ، لسبیلہ سگنل، گارڈن سگنل ،لیاقت آباد ، حسن اسکوائر، اسٹیڈیم روڈ، ڈالمیا روڈ،فائیو اسٹار چورنگی، نارتھ ناظم آباد کے ڈی اے چورنگی، ناگن چورنگی اور نارتھ کراچی پاور ہائوس چورنگی سمیت بیشتر سڑکیں بارش کے پانی اور گاڑیوں کے اژدھام میں پھنسی رہی،جبکہ بیشتر موٹر سائیکل سوار افراد پھسلن کے سبب گرکر زخمی ہوئے جو نجی اسپتالوں سے مرہم پٹی کے بعد اپنے گھروں پر روانہ ہوئے،موٹر سائیکل سے گرکر زخمی ہونے والے بیشتر افراد نے جناح ،سول اور عباسی شہید اسپتالوں کا بھی رخ کیا،بارش کے دوران بھینس کالونی ، ڈالمیا گلشن اقبال اور اورنگی ٹائون میں آسمانی بجلی گرنے کی اطلاع ملی اور ابتداء میں معلوم ہوا تھا کہ ان گرنے والی بجلی کے نتیجے میں دو گاڑیوں میں آگ لگ گئی ہے اور کچھ افراد زخمی ہوئے ہیں،ان تینوں مذکورہ علاقے کی پولیس نے بجلی گرنے کی تصدیق نہیں کی، علاوہ ازیں بارش کے دوران کرنٹ لگنے کے واقعات بھی رونما ہوئے جس کے نتیجے میں12 افراد جان سے گئے ،ہلاک ہونے والوں میں اورنگی ٹائون 10نمبر میں بجلی کے پول سے کرنٹ لگنے کے نتیجے میں 35 سالہ ظہیر احمدنامی شخص جاں بحق ہوا۔ شیر شاہ پنکھا ہوٹل کے قریب دو افراد کرنٹ لگنے کے نتیجے میںجاں بحق ہوگئے جن کی لاشیں اسپتال پہنچائی گئیں ،جہاں ان کی شناخت 35 سالہ تفصیل حسین اور 23 سالہ وقاص احمد کے نام سے ہوئی ،جو اسی علاقے کے رہائشی بتائے جاتے ہیں۔پاک کالونی کے علاقے جہاں آباد میں کرنٹ لگنے کے نتیجے میں وصیل ولد بابو شاہ جاں بحق ہوا ۔ملیر پندرہ میں محمد بلال نامی شخص کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہواجس کی لاش جناح اسپتال لائی گئی۔ملیر غازی گوٹھ میں کرنٹ لگنے سے35سالہ عبدالباسط جاں بحق ہوگیا جس کی لاش جناح اسپتال پہنچائی گی۔کینٹ اسٹیشن کے قریب پل کے نیچے کرنٹ لگنے سے 35 سالہ شمن نامی شخص ہلاک ہوا جس کی لاش جناح اسپتال لائی گئی۔ لانڈھی لیبراسکوائر کے قریب پانی کے جوہڑ میں ڈوب کر14سالہ لڑکا جاںبحق ہوگیا جسکی لاش کو لوگوں نے فلاحی ادارے کی مدد سے نکال کر اسپتال پہنچایا ، فور طور پر متوفی کی شناخت نہیں ہوسکی۔ کورنگی ریس کورس گرائونڈ کے قریب کرنٹ لگنے سے30سالہ شخص جاں بحق ہوگیا۔جس کی لاش کو جناح اسپتال پہنچایا گیا۔ناظم آباد چھوٹا میدان کے قریب کرنٹ لگنے سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا۔علاوہ ازیں سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات نثار احمد کھوڑو کا کہنا ہے کہ کشمور سے لے کر کوٹری ڈائون اسٹریم تک دریائے سندھ کے حفاظتی پشتوں کے46 مقامات کو حساس قرار دیا گیا ہے‘ نثار کھوڑو نے بتایا کہ دریائے سندھ میں جہاں شگاف پڑے تھے ان مقامات پر پتھر بھی ذخیرہ کردیا گیاہے۔ تاکہ کسی ایمر جنسی کی صورت میں پانی کا مقابلہ کرنے کیلئے دریا میں ڈالا جاسکے‘ انہوں نے بتایا کہ پنجاب سے5سے6لاکھ کیوسک پانی کی آمد متوقع ہے‘ اس وقت4 سے ساڑھے4لاکھ کیوسک پانی رواں دواں ہے‘ نثار کھوڑو کے مطابق گڈو سے اگر 6لاکھ کیوسک پانی کی آمد ہوتی ہے تو سکھر بیراج تک پہنچتے پہنچتے یہ مقدار ساڑھے5لاکھ کیوسک رہ جائیگی جو 2010 ء کے سیلاب کے مقابلے میں50 فیصد کم ہے۔

Tags: