کراچی کے 21 پولیس اہلکار سنگین جرائم میں ملوث کارروائی کی جائے رینجرز کا پولیس حکام کو خط

August 12, 2015 2:24 pm0 commentsViews: 15

ایس ایس پی اکرم ابڑو‘ سب انسپکٹر ممتاز مہر اور پولیس اہلکار رانا حنیف اغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں ملوث ہیں
کرپشن میں ملوث ایک ہزار اہلکاروں کے خلاف کارروائی شروع کردی گئی ہے‘ پولیس افسر‘ رینجرز ترجمان کی خط لکھے جانے کی تردید
کراچی( کرائم رپورٹر) رینجرز حکام نے21 پولیس افسروں و اہلکار جو کہ سنگین نوعیت کے جرائم میں ملوث ہیں کے خلاف کارروائی کے لئے پولیس کے اعلیٰ افسران اور حکام کو خط لکھ دیا ہے۔ تاہم رینجرز ترجمان نے کوئی خط لکھے جانے کی تصدیق نہیں کی ہے۔ ذرائع کے مطابق رینجرز حکام کی جانب سے پولیس کے اعلیٰ افسران و اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ خط کے مطابق ایس ایس پی اکرم ابڑو، سب انسپکٹر ممتاز مہر، پولیس اہلکار رانا حنیف، پولیس اہلکار بلال اغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں ملوث ہیں۔ انسپکٹر چوہدری اعظم، سب انسپکٹر راز، اے ایس آئی راجا خالد، اے ایس آئی ناصر عروج، پولیس اہلکار کامران بیٹر، فاروق شاہ، بابر، رمضان بیٹر، اور عمران میمن بھتہ خوری کی وارداتوں میں ملوث ہیں۔ انسپکٹر واصف قریشی جرائم پیشہ افراد کی مدد کرنے میں ملوث ہیں۔ ان سمیت21 پولیس کے افسران و اہلکار شامل ہیں، ذرائع کے مطابق کائونٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ کے افسر خرم وارث اور اہلکار راجا شیراز کے حوالے سے بھی انکوائری کا کہا گیا ہے فیروز آباد کے علاقے میں ایک کال سینٹر پر راجا شیراز نے وفاقی ادارے کا اہلکار بن کر چھاپا مارا تھا اور ان سے پیسے طلب کئے تھے۔ پولیس حکام نے تاحال کسی پولیس افسر و اہلکار کے خلاف کارروائی نہیں کی۔ اس سلسلے میں پولیس کے ایک سینئر افسر سے رابطہ کیا تو انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پولیس اہلکار و افسران کے کرپشن میں ملوث ہونے کے حوالے سے ہمارے پاس پہلے بھی رپورٹیں آئی ہیں اور اس وقت لگ بھگ ایک ہزار ایسے اہلکار و افسران کے خلاف کارروائی شروع کر دی گئی ہے جن کا رینک کانسٹیبل سے لے کر انسپکٹر تک ہے اور رینجرز کے ساتھ ساتھ پولیس کی اسپیشل برانچ اور ملک میں کام کرنے والے دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے کے حوالے سے نظر رکھے ہوئے ہیں وقتاً فوقتاً اپنی رپورٹیں دیتے رہتے ہیں۔

Tags: