کراچی میں سٹرکوں پر لگے کیمرے اندھے اور ناکارہ نکلے

August 21, 2015 5:07 pm0 commentsViews: 14

2011 میں70 کروڑ روپے دیکر50 کیمرے خریدے گئے تھے جن میں سے آدھے کیمرے ناکارہ نکلے ہیں
کیمرے لگانے والی کمپنی کا مالک بھی دہشت گردوں کا مخبر نکلا، رینجرز ایک بار گرفتار بھی کر چکی ہے
کراچی( مانیٹرنگ ڈیسک) رشید گوڈیل پر حملہ کرنے والوں کے چہرے کیوں نہیں آئے؟ نجی ٹی وی کے مطابق کراچی کی سڑکوں پر لگے ہوئے کیمرے اندھے یا دھندلے ہیں‘ 2011 ء میں70کروڑ کے650 کیمرے خریدے گئے‘ سندھ حکومت نے ڈھائی لاکھ کا کیمرہ10لاکھ میں خرید ا اور وہ بھی ناکارہ نکلا‘ سابق آئی جی سندھ نے90 کروڑ کا ٹھیکہ 170کروڑ میں دیا‘ کیمرے لگانے والی کمپنی کا مالک بھی دہشت گردوں کا مخبر نکلا جسے ایک بار رینجرز گرفتار بھی کرچکی ہے‘2011 ء میں لگائے گئے آدھے کیمرے ناکارہ نکلے لیکن رواں سال بھی اسی کمپنی سے مزید کیمروں کیلئے رابطہ کیا گیا‘ وزیراعظم کو گزشتہ روز کے اجلاس میں جو رپورٹ دی گئی ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ سڑکوں پر لگے کیمروں سے دہشت گردوں کی شناخت نہیں ہو پارہی‘ کیوں کہ کیمرے میں دہشت گردی کرنیوالوں کے چہرے واضح نظر نہیں آتے اور ریکارڈنگ دھندلی ہوتی ہے‘ جس پر وزیراعظم نے کیمروں کی خراب کارکردگی پر ناراضگی کااظہار کیا اور ہدایت کی کہ کراچی میں جدید کیمرے لگائے جائیں۔

Tags: