رشید گوڈیل کے ڈرائیور کو سینے اور کندھوں میں گولیاں کیسے لگیں؟

August 25, 2015 1:17 pm0 commentsViews: 18

گاڑی پر سامنے سے فائرنگ نہیں ہوئی، ڈرائیونگ سیٹ پر گولیوں کے نشانات نہیں
ڈرائیور کو گاڑی روک کر مدد کیلئے پکارنے کی کوشش کے دوران گولی مارے جانے کے انکشافات
کراچی( مانیٹرنگ ڈیسک) عبدالرشید گوڈیل پر حملے کی تفتیش کے دوران مقتول ڈرائیور کو گاڑی روک کر مدد کیلئے پکارنے کی کوشش کے دوران گولی مارے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے‘ پولیس حکام کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج اور گاڑی کے دوبارہ معائنے کے دوران سی سی ٹی وی فوٹیج اور گاڑی کے دوبارہ معائنے کے دوران تفتیش میں یہ نیا پہلو سامنے آیا جس پر اعلیٰ پولیس افسران نے فوٹیج ‘حملے کا نشانہ بننے والی گاڑی اور جائے وقوعہ کا ایک بار پھر تفصیلی معائنہ کیا۔ گاڑی کے معائنے سے ظاہر ہوتاہے کہ فائرنگ سامنے سے نہیں ہوئی جس پر یہ سوال پیدا ہوا ہے کہ ڈرائیور کو دونوں کندھوں کے نیچے سینے میں گولیاں کیسے لگیں‘ ایک گولی متین کے سینے میں پار ہوئی تو ڈرائیونگ سیٹ پر گولی کا نشان کیوں نہیں ہے‘ یہ سوالات سامنے آنے پر حکام نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ ڈرائیور پہلے حملے میں معمولی زخمی ہوا تھا جو رشید گوڈیل کی مدد کرنا چاہتا تھا مگر پہلے حملہ کرنے والے ملزمان کے بیک اپ میں آنے والے کسی اور حملہ آور نے اسے گولی مار دی‘ تفتیش میں ایک اور رخ سامنے آنے پر تفتیشی ماہرین نے تفتیش کا دائرہ مزید بڑھادیا ہے‘ دریں اثناء ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے پیرکو رکن قومی اسمبلی رشید گوڈیل کو فون کرکے ان کی خیریت دریافت کی اور ان کی صحت یابی کیلئے دعا کی۔

Tags: