اُردو کو فوری دفتری زبان کے طور پر رائج کرنے کا حکم

September 9, 2015 1:44 pm0 commentsViews: 23

وفاقی اور صوبائی حکومتیں 3 ماہ کے اندر قوانین کا اُردو ترجمہ اور قومی زبان کے رسم الخط میں یکسانیت پید اکریں
آرٹیکل 251 کے احکامات کو بلا تاخیر نافذ کیا جائے‘ سپریم کورٹ کا پوری قوم پر احسان عظیم ہے‘ کوکب اقبال
اسلام آباد( نیوز ایجنسیاں) سپریم کورٹ نے آرٹیکل 251 کے تحت قومی زبان اردو کے بلا تعطل عملی نفاذ کے احکامات جاری کر دئے ہیں جس کی روح سے پاکستان کے تمام سرکاری اداروں میں اردو زبان رائج ہوجائے گی۔ مقابلے سمیت دیگر تمام امتحانات اردو زبان میں ہو سکیں گے، عدالت نے اپنے فیصلے میں 9 ہدایات وفاقی حکومت کو جاری کی ہیں۔ چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں بنچ نے منگل کے روز کوکب اقبال ایڈووکیٹ، محمود اختر نقوی کی درخواستوں کو منظور کرلیا اور اردو زبان کے بطور سرکاری زبان نفاذ کے احکامات جاری کئے ہیں۔ فیصلے پر رد عمل میں درخواست گزار کوکب اقبال نے کہا کہ یہ آپ کا پوری قوم پر احسان عظیم ہے اور اس فیصلے سے قائد اعظم کی بھی روح خوش ہوگی۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ آئینی تقاضا ہے کہ اردو کو نافذ کیا جائے۔ عدالت عظمیٰ کی جانب سے جاری کئے گئے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 251 کے احکامات کو بلا غیر ضروری تاخیر فوراً نافذ کیا جائے۔ اور اردو کو فوری طور پر سرکاری و دفتری زبان کے طور پر رائج کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ قومی زبان کے رسم الخط میں یکسانیت پیدا کرنے کیلئے وفاقی اور صوبائی حکومتیں باہمی ہم آہنگی پیدا کریں۔ تین ماہ کے اندر اندر وفاقی اور صوبائی قوانین کا قومی زبان میں ترجمہ کر لیا جائے۔ بغیر کسی غیر ضروری تاخیر کی نگرانی کرنے اور باہمی ربطہ قائم رکھنے والے ادارے آرٹیکل 251 کو نافذ کریں اور تمام متعلقہ اداروں میں اس دفعہ کا نفاذ یقینی بنائیں۔

Tags: