عوام کو فوری اور سستا انصاف نہیں ملتا چیف جسٹس جواد ایس خواجہ

September 10, 2015 4:02 pm0 commentsViews: 21

وکیل اور حکومت نظام عدل کی تباہی کے ذمہ دار ہیں‘ میں نے عدل کے ایوانوں میں خوف کے کئی روپ دیکھے ہیں
پاکستانی عوام کو سستا اور فوری انصاف فراہم نہ کرنے والا نظام بدلنا حکومتی‘ ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے
کیس دائر ہونے سے سپریم کورٹ میں اس کا فیصلہ ہونے تک 25 سال لگ جاتے ہیں فل کورٹ ریفرنس سے خطاب
اسلام آباد( خبر ایجنسیاں) چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کی ریٹائرمنٹ پر منعقدہ فل کورٹ ریفرنس سے خطاب میں موجودہ عدالتی اور انصاف کے نظام پر سوالات اٹھا دئیے اور کہا ہے کہ تسلیم کرتا ہوں کہ اس ملک میں سستا اور فوری انصاف کسی کو نہیں مل رہا۔ ریاست کو اعتراف کرنا ہوگا کہ وہ عوام کو فوری انصاف فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے اور جج، وکیل اور حکومت نظام عدل کی تباہی کے ذمہ دار ہیں۔ ہمیں اس بات کا اقرار کرنے میں تامل نہیں ہونا چاہئے کہ ایسا نظام جو سستا اور فوری انصاف مہیا نہیں کر رہا اسے بدلنا حکومت، ریاستی اداروں اور معاشرے کے ہر فرد بشمول وکلاء اور ججوں کی ذمہ داری ہے۔ جس قوم کے افراد عدل و انصاف کے قائل نہ ہوں اور وہ جھوٹ بولیں، رشتے دار، عزیز، ہمسائے کا حق ماریں اور یہ برائیان ساری قوم کی سوچ میں سرایت کر جائیں تو پھر انصاف کی فراہمی ممکن نہیں اور انصاف کی توقع بھی عبث ہے، گزشتہ چار دہائیوں میں رائن نظام میں بہتری نہیں بلکہ بتدریج انحطاط واقع ہوا ہے۔ ان اداروں کو خود معاشرے اور سماج کو شعوری طور پر اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے کیونکہ ایسی خود نگری اور احساس زیاں ہی بہتری کی طرف پہلا قدم ثابئت ہوتے ہیں۔ ایک دعویٰ کے عدالت میں دائر ہونے سے لے کر سپریم کورٹ میں اس کا حتمی فیصلہ ہونے تک اوسطاً پچیس سال لگ جاتے ہیں یہ اوسط ہے بہت سے دعوے تو تین تین پشتوں تک کھینچ جاتے ہیں۔ بے لاگ خود احتسابی کے بغیر ہم نظام کو بہتر نہیں بنا سکتے، پولیس، وکلاء اور عدالتوں سے ہی متلاشیاں انصاف کو کوئی خاص ہمدردانہ رویہ نہیں ملتا، بعض اوقات میں نے عدل کے ایوانوں میں خوف کے کئی روپ دیکھے۔ اس خوف کا سبب کہیں دھونس اور دبائو تو کہیں پیسے والں یا اثر رسوخ والوں کی ناراضگی کا خوف۔ یہ عوامل ماضی قریب کی تاریخ میں زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آئے۔ اسلام آباد کی ضلعی عدالتوں میں یکم جنوری2014ء سے لے کر دسمبر2014ء تک 50سے زائد ہڑتالیں ہوئیں۔ یعنی عدالتی سال کے تقریبا ہر چوتھے دن وکلاء ہڑتال پر تھے۔ ان ہڑتالوں کی وجہ سے یا دیگر وجوہ پر التوا سے تقریباً 50 فیصد مقدمات موخر ہوتے رہے۔

Tags: