بینظیر سے فون پر کوئی رابطہ نہیں تھا امریکی صحافی مارک سیگل کا بیان جھوٹا ہے پرویز مشرف

October 3, 2015 2:23 pm0 commentsViews: 13

مارک سیگل کے بیان کی گواہی کیلئے آصف زرداری کو بلایا جائے
مارک سیگل سچے ہیں تو اپنی زیر ادارت شائع ہونے والی کتاب میں اس ٹیلی فونک کال کا تذکرہ کیوں نہیں کیا
بینظیر بھٹو نے اپنی سیکورٹی کیلئے تحریری طور پر مجھ سے رجوع کیا تھا اور ان کی سیکورٹی ان ہی کے نامزدکردہ افسران کو دی گئی تھی
اسلام آباد( خبر ایجنسیاں) آل پاکستان مسلم لیگ کے چیئر مین اور سابق صدر پرویز مشرف نے امریکی صحافی مارک سیگل کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کا بیان حقائق کے برعکس محض جھوٹ کا پلندہ ہے بیان پر حیرت ہوئی۔ مارک سیگل کے بیان پر گواہی دینے کیلئے آصف زرداری کو طلب کیا جائے تا کہ اصل حقائق سامنے آسکیں۔ مخالفین مارک سیگل کے بیان کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ اس بیان کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل ڈاکٹر امجد سے ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ ان کا امریکا میں کوئی ٹیلی فونک رابطہ نہیں تھا اور نہ ہی انہوں نے2007ء میں بے نظیر بھٹوکو ٹیلی فون کال کی۔ جس کا احوال امریکی صحافی مارک سیگل نے دیا جھوٹ پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان مخالفین کی ایک سازش ہے کہ وہ مارک سیگل کے بیان کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ سمجھ نہیں آتی۔ کہ بار بار مارک سیگل سے ہی انکوائری کیوں ہو رہی ہے۔ انہوں نے اس اہم پہلو کی طرف توجہ دلائی کہ اگر مارک سیگل اتنے ہی سچے ہیں تو انہوں نے اپنی ادارے سے شائع ہونے والی بے نظیر بھٹو کی کتاب میں اس ٹیلی فونک کال کا تذکرہ کیوں نہیں کیا؟ جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کو اگر مجھ سے خطرہ ہو تا تو وہ مجھ سے سیکورٹی مانگنے کے لئے رجوع نہ کرتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 2007میں پاکستان واپس آنے سے پہلے بے نظیر بھٹو نے تحریری طور پر ان سے سیکورٹی کیلئے رجوع کیا تھا اور ان کی سیکورٹی انہیں کے نامزد سیکورٹی افسران کو دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ میں سچائی پر یقین رکھتا ہوں، حق اور سچ کو کوئی عار نہیں ہوتی۔

Tags: