ریاست مخالف جنگجوئوں کے حملے کرنے کی صلاحیت مکمل ختم ہوئی

October 3, 2015 2:32 pm0 commentsViews: 9

بھاری جانی و مالی نقصان اور ٹھکانے تباہ ہونے کے باوجود حملوں کی صلاحیت رکھتے ہیں، رپورٹ
اسلام آباد( نیوز ڈیسک) ریاست مخالف جنگجو حملوں میں کمی کا رجحان ایک سطح پر رک گیا ہے۔ گزشتہ چند ماہ سے ماہانہ جنگجو حملوں کی تعداد پچاس کے ارد گرد چلی آرہی ہے اسلام آباد میں قائم تھنک ٹینک پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکورٹی اسٹیڈیز کی ماہانہ جائزہ سیکورٹی رپورٹ کے مطابق آپریشن ضرب عضب انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن اور دیگر کارروائیاں اپنے اہداف کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ سلامتی کی صورتحال میں مزید بہتری کیلئے حکومت کو نیشنل ایکشن پلان کے تناظر میں دیگر اقدامات بھی کرنے ہوں گے۔ ستمبر میں مزید154 جنگجو سیکورٹی فورسز نے ہلاک کر دئیے تاہم بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانے اور محفوظ ٹھکانوں سے محروم ہونے کے باوجود جنگجو ئوں کی ہائی پروفائل حملہ کرنے کی صلاحیت مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکی۔ جائزہ رپورٹ کے مطابق ماہ ستمبر2015ء میں کل 55 جنگجو حملے ریکارڈ کئے گئے۔ اگست میں یہ 53 تھی، ستمبر میں ہونے والے55 جنگجو حملوں میں سیکورٹی فورسز کے40 جوان، 13امن لشکروں کے اراکین اور38 عام شہری مارے گئے جبکہ 34 جنگجو بھی ان جوابی کارروائیوں کے دوران مارے گئے، سیکورٹی فورسز کی کارروائیوں میں مارے جانے والے جنگجوئوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔ خیبر پختونخوا میں 2015ء میں 55 جنگجو حملے اورسیکورٹی فورسز کی90 کارروائیاں ریکارڈ کی گئیں۔ حملوں اور کارروائیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جبکہ فاٹا، سندھ اور بلوچستان میں کمی کا رجحان دیکھنے میں آیاہے۔ ملک بھر میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا اور ملک بھر سے مزید415 مشتبہ جنگجو ان کے حامی اور معاونین گرفتار کئے گئے۔

Tags: