گواہوں کی عدم پیشی مقدمات التواء کا شکار‘ جیلوں میں قیدیوں کی تعداد بڑھ گئی

October 19, 2015 4:32 pm0 commentsViews: 13

کراچی کے پانچوں اضلاع کی عدالتوں میں چلنے والے خطرناک ملزمان کے مقدمات میں گواہوں کو پیش نہیں کیا جاسکا‘ عدالتوں کا اظہار برہمی
5 ہزار مقدمات میں مفرور ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری‘ پولیس گواہوں سے رشوت لے کر ان کی عدم دستیابی کی رپورٹ دیتی ہے‘ پراسیکویشن افسران
کراچی( نیوز ڈیسک) کراچی پولیس پانچوں اضلاع کی عدالتوں میں چلنے والے8ہزار سے زائد خطرناک مقدمات میں گواہان کو پیش کرنے میں ناکام ہوگئی جس کے باعث ہزاروں مقدمات التوا کا شکار ہوگئے ہیں اور جیلوں میں قیدیوں کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے۔ عدالتوں نے تفتیشی افسران پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے5 ہزار مقدمات میں مفرور ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دئیے۔ اس سلسلے میں عدالتی ذرائع نے بتایا کہ عدالت میں چلنے والے کریمنل فوجداری اور دیگر دفعات میں چلنے والے مقدمات میں عدالتوں کی جانب سے جاری کر دہ نوٹسز، وارنٹ گرفتاری اور نا قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کے باوجود پولیس گواہان کو پیش کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔ جبکہ سینکڑوں مقدمات کے گواہوں میں خود پولیس افسران اور اہلکار بھی شامل ہیں، ان دنوں سرکاری گواہوں کی غیر حاضری کے باعث مقدمات کی سماعت مسلسل ملتوی کی جا رہی ہے اور عدالتیں قانونی ضابطہ اخلاق پورا کرنے کیلئے گواہوں کے وارنٹ گرفتاری جاری کرتی ہیں لیکن گواہ پھر بھی نہیں آتے اور نہ ہی پولیس انہیں گرفتار کرکے لاتی ہے۔ اس سلسلے  میں پراسیکیوشن افسران سید ہاشم احمد، چوہدری محمدا کرم، کلیم احمد، اور دیگر نے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ سمن کی تعمیر کرانے والے اہلکار ان گواہان سے چند سو روپے لے کر ان کے نہ ہونے  کی رپورٹ لے کر آجاتے ہیں جس کے بعد گواہان غائب ہوجاتے ہیں اور مقدمات التوا کا شکار ہوجاتے ہیں یا پھر ملزمان گواہ نہ ہونے پر کیس سے بری ہوجاتے ہیں انہوں نے کہا کہ ایک مقدمے میں سرکاری افسران اور عملے پر سرکاری خزانے سے ماہانہ4 سے5 لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں۔

Tags: