جعل سازی میں ملوث4بینک افسران 14روزہ عدالتی ریمانڈ پر جیل منتقل

October 20, 2015 3:59 pm0 commentsViews: 13

کراچی(اسٹاف رپورٹر)احتساب عدالت نے جعل سازی میں ملوث نیشنل بینک کے4افسران کو14روزکے لئیے عدالتی ریمانڈپرجیل بھجوا دیا، پیر کو احتساب عدالت نے جعل سازی میں ملوث نیشنل بنک آف پاکستان کیافسرملزم مظفر،شکیل،وقاص اور آصف کو14 روز جسمانی ریمانڈ پر جیل بھجوادیا ،نیب حکام کے مطابق ملزموں نے جعلی چیکس سے قومی خزانے کوکروڑوں کا نقصان پہنچایا۔

چائنا کٹنگ پلاٹوں کے بعد سائن بورڈ سائٹس اسکینڈل
اسکینڈل میں شرجیل میمن، ثاقب سومرو، کے ایم سی افسران اور سابق ٹائون نظام گلشن اقبال ملوث
نیب اور ایف آئی کے پاس شواہد موجود،تحقیقات مکمل کرکے چالان پیش کرنے کی تیاری، مزید نئے نام سامنے آنے کا امکان
کراچی( نیوز ڈیسک) غیر قانونی طور پر پلاٹوں کی چائنا کٹنگ کے بعد اب سائن بورڈز اور ہورڈنگز کی غیر قانونی چائنا سائٹس تخلیق کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے‘ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ حساس اداروں کی جانب سے شہر میں لگائے جانیوالے بے ہنگم اور غیر قانونی ہورڈنگز کے بارے میں کی جانیوالی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ شہر میں2013 ء کے بعد غیر قانونی ہورڈنگز کی سائٹس پلاٹوں کی چائنا کٹنگ کی طرح غیر قانونی طور پر بنائی گئی تھی جن کی تعداد کم و بیش 3 ہزار تھی جہاں بھاری رقوم رشوت کیساتھ ہورڈنگز‘ سائن بورڈز وغیرہ کی تنصیب کی اجازت دیدی گئی تھی‘ جبکہ ساتھ ہی کے ایم سی کی جانب سے منظور شدہ سائٹس جس کا نیلام کیا جانا تھا نیلام کے بغیر ہی بھاری رشوت کے عوض ان کے اجازت نامے جاری کردیئے جاتے تھے‘ ذرائع کا کہنا ہے کہ ہورڈنگز ‘سائن بورڈ کی تنصیب کا کاروبار پلاٹوں کی چائنا کٹنگ سے کہیں زیادہ مالی فائدہ کا باعث ہے‘ غیر قانونی ہورڈنگز کے کاروبا میں سابق صوبائی وزیر بلدیات شرجیل انعام میمن ‘سابق ایڈمنسٹریٹر کراچی ثاقب سومرو‘ کے ایم کے موجودہ ڈائریکٹر لوکل ٹیکس راشد خان‘ سابق ڈائریکٹر لوکل ٹیکس اخترشیخ کے ساتھ ایک سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے سابق ٹائون ناظم گلشن اقبال اور ایک رہنما کے ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں۔ ان تمام کے حوالے سے حساس ادارے تحقیقات کررہے ہیں۔

 

Tags: