سرکاری زمین ریوڑیوں کی طرح بانٹی جارہی ہے،سپریم کورٹ،سندھ حکومت کو جواب کیلئے آخری مہلت

October 29, 2015 3:26 pm0 commentsViews: 28

آئندہ مہلت نہیں دیں گے، ریاست اور اداروں کی زمین میں فرق سمجھاجائے، ریاستی زمین بانٹی نہیں جاسکتی، جسٹس ثاقب نثار
عدالتی احکامات پر غیرقانونی طور پرکی گئیں، تمام تقرریاں ختم کردی ہیں، چیئرمین پورٹ قاسم، توہین عدالت کی درخواست نمٹادی گئی
اسلام آباد( آئی این پی) سپریم کورٹ نے کراچی میں سرکاری زمینوں پر قبضے سے متعلق کیس کی سماعت میں سندھ حکومت کے وکیل کے جواب داخل کرانے کیلئے مہلت کی استدعا منظور کر لی۔ جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ ریاستی زمین ریوڑیوں کی طرح بانٹی جا رہی ہے اور سندھ حکومت اس معاملے میں بار بار مہلت مانگ رہی ہے اس بار آخری مہلت دی جا رہی ہے آئندہ مہلت نہیں دیں گے، بدھ کو سپریم کورٹ میں کراچی کے علاقے ملیر میں سرکاری زمینوں پر قبضے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران سندھ حکومت کے وکیل نے جواب داخل کرانے کے لئے عدالت سے مہلت کی استدعا کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ زمین کی ایلو کیشن سے متعلق جواب دائر کرنا چاہتے ہیں لہٰذا مزید مہلت دی جائے جس پر جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس میں کہا کہ ریاست اور اداروں کی زمین میں فرق سمجھا جائے۔ ریاستی زمین ریوڑیوں کی طرح نہیں بانٹی جا سکتی ، جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں3 رکنی بنچ نے کیس کی سماعت 12 نومبر تک ملتوی کر دی۔ دریں اثناء ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ نے پورٹ قاسم میں1091 غیر قانونی تقرریوں کے حوالے سے چیئر مین کی رپورٹ پر توہین عدالت کا مقدمہ بھی نمٹا دیا ہے۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے بدھ کو مقدمے کی سماعت کی،۔ عبدالجبار میمن کی درخواست پر چیئر مین پورٹ قاسم نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ عدالتی احکامات پر مکمل عملدر آمد کرا دیا گیا اور غیر قانونی طور پر کی گئی تمام تقرریاں ختم کر دی گئیں ہیںں جس پر عدالت نے توہین عدالت کی درخواست نمٹا دی۔

Tags: