عوام اور ریاست کے درمیان فاصلے کم کرنا ہونگے‘ چیف جسٹس کا سینیٹ میں خطاب

November 4, 2015 4:41 pm0 commentsViews: 13

منتخب نمائندے عوام کو جوابدہ ہیں‘ قانون کی بالادستی کا عمل ریاست کو زندہ رکھنے میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے
ہمارے پاس اپنی کارکردگی جانچنے کا کوئی نظام موجود نہیں‘ تمام طبقات کو قانون تک رسائل ہونی چاہئے‘ جسٹس انور ظہیر جمالی
اسلام آباد( آئی این پی) سپریم کورٹ کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا ہے کہ منتخب نمائندے عوام کو جواب دہ ہیں حکومت کو ملنے والے مینڈیٹ کے تقاضے پورے کرنا ہوں گے۔ قانون کی بالادستی کا عمل ریاست کو زندہ رکھنے میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ قوانین پر عملدر آمد انتظامیہ کی اولین ذمہ داری ہے کمزور نظم  و نسق پر عدلیہ کو انتظامی  امور میں دخل دینا پڑتی ہے۔ ہم سب کسی فرد نہیں بلکہ قانون کے تابع ہیں۔ سستے اور فوری انصاف کی فراہمی کے لئے سفارشات پیش کی ہیں ہمیں قوانین پر عملدر آمد  کے سلسلے میں بحران کا سامنا ہے۔ 80 فیصد تنازعات کا تصفیہ جرگے اور دیگر نظام سے کیا جا رہا ہے کارکردگی کی جانچ اور تجزئیے کا کوئی نظام نہیں اور انصاف کی فراہمی کے معیار کی نگرانی کا بھی فقدان ہے۔ منگل کو ملکی تاریخ میں پہلی بار عدالتی اصلاحات کے حوالے سے سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار سینیٹ سے خطاب کر رہا ہوں ۔  چیئر مین سینیٹ رضا ربانی نے اداروں کی بالادستی کیلئے سپریم کورٹ کا دورہ کیا جبکہ میرا سینیٹ کا دورہ اداروں کی اہمیت کیلئے اقدامات کے سلسلے کی کڑی ہے۔ آئین میں ریاست کے خدو خال کی تشریح کی گئی ہے۔ ریاست  جمہوریت کی منشاء پر قائم ہوئی، قانون پر عملدر آمد کے بغیر ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہوا جا سکتا اس لئے عوام اور ریاست کے درمیان فاصلے کم کرنا ہوں گے۔ قانون کی نظر میں تمام شہری برابر ہیں۔ ریاست کا تصور سیاسی مفاہمت پر استوار ہے اس لئے حکومت کو ملنے والے مینڈیٹ کے تقاضے پورے کرنا ہوں گے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ ملک کا مستقبل عدلیہ کی آزادی اور آئین کی عملداری ہی پر منحصر ہے، ریاست کے باشندوں کو یہ نظر آنا چاہئے کہ کوئی بھی شخص قانون  سے بالاتر نہیں۔

Tags: