الطاف حسین کو بولنے سے روکا گیا ہے‘ لاہور ہائیکورٹ

November 12, 2015 7:43 pm0 commentsViews: 14

اظہار رائے کیلئے حدود مقرر ہیں اور دفاع پاکستان کیخلاف بات نہ کرنا اس کی بنیادی شرط ہے‘ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی
الطاف حسین اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ کیا کہہ رہے‘ درخواست گزار وکیل‘ ایم کیو ایم کے قائد کو عبوری حکم کے تحت سزا نہیں دی جاسکتی‘ عاصمہ جہانگیر
لاہور( مانیٹرنگ ڈیسک) لاہور ہائیکورٹ کے فل بینچ نے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کرنے کی درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ عدالت نے کسی کو بولنے سے نہیں روکا، لیکن ایم کیو ایم کے سربراہ جو بولتے ہیں وہ انہیں بولنے سے روکا ہے۔ مسٹر جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں قائم فل بینچ نے سردار آفتاب ورک و دیگر کی درخواستوںکی سماعت کی، ایم کیو ایم کی وکیل عاصمہ جہانگیر کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ ایم کیو ایم کے قائد کو عبوری حکم کے ذریعے سزا نہیں دی جا سکتی۔ کسی کے بنیادی حقوق چھیننا سزا دینے کے مترادف ہے۔ لہٰذا عدالت پابندی کے معاملے کا جلد فیصلہ کرے جس پر فاضل بینچ نے کا کہنا تھا کہ ہر شہری کو آزادی اظہار رائے کا حق ہے۔ لیکن اس کی حدود مقرر ہیں اور دفاع پاکستان کے خلاف بات نہ کرنا اس کی بنیادی شرط ہے۔ دوران سماعت عاصمہ جہانگیر اور فل بینچ کے سربراہ جسٹس مظاہرہ علی اکبر نقوی کے درمیان دلچسپ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ جب درخواست گزاروں کے وکیل احمد اویس نے کہا کہ ایم کیو ایم کے قائد اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ جب کہ ان کے متعدد بیانات ایسے ہیں جن میں وہ بات کرکے معافی مانگتے ہیں۔ عاصمہ جہانگیر نے فاضل جج سے کہا کہ آپ نے ایک آرڈر سے وہ کام کیا جو فوج بھی نہیں کر سکی۔ سپریم کورٹ نے معاملہ آپ کو فیصلہ کیلئے بھجوایا ہے کہ جس کا بیل ہے وہی ہانکے۔ اس پر بینچ کے سربراہ نے کہا کہ بیل تو ہارا ہے ہانک کر واپس بھیج دیا گیا ہے۔ آپ نے سپریم کرٹ میں غلط انداز میں دلائل دئیے اور حقائق کو درست طریقے سے پیش نہیں کیا جس پر عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ یہ کام انتظامیہ کا ہے کہ وہ کسی کے خلاف کارروائی کریں۔ عدالت نے عاصمہ جہانگیر کو ایم کیو ایم کے سربراہ کی جانب سے ہدایات لے کر پیش ہونے کا حکم دیا اورمزید سماعت 17 نومبر تک ملتوی کر دی۔

Tags: