قائد اعظمؒ کا گمشدہ پاکستان

December 25, 2019 1:58 pm0 commentsViews: 19

پاکستانی قوم آج قائداعظم محمد علی جناحؒ کا جشنِ ولادت انتہائی جوش و خروش سے منا رہی ہے، صبح سویرے مزار قائد پر گارڈز کی تبدیلی کی تقریب منعقد کی گئی جس کے بعد لوگوں کی بڑی تعداد اپنے محبوب قائد کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ان کے مزار پر پہنچ گئی ہے جن میں سیاسی و سماجی رہنما بھی شامل ہیں، لیکن کیا اس بات پر ہماری سیاسی قیادت نے غور کیا کہ جس مقصد کو لے کر قائد نے 1936ء سے 1947ء تک خطرناک بیماری کے ہوتے ہوئے آزادی کا سفر طے کیا، ان کے نظریات اور خیالات کی آبیاری اسی طرح ہو رہی ہے جو اس ہستی نے مسلم قوم کے لیے وقف کر دیے تھے۔ قرارداد پاکستان کے صدارتی خطبہ سے قبل اپنی نشست پر بیٹھے نم دیدہ آنکھوں سے قائداعظمؒ نے یہ الفاظ کہے کہ کاش! آج اقبال زندہ ہوتے، وہ دیکھتے کہ ان کے خواب کی تعبیر کس طرح سامنے آرہی ہے۔
پاکستانی قوم اور حکمرانوں کو یہ بات سوچنا چاہیے کہ کیا یہ وہی پاکستان ہے جس کا خواب علامہ اقبالؒ نے دیکھا تھا اور قائداعظمؒ نے اس خواب کو تعبیر دی تھی۔ آخر ہم کب کہہ سکیں گے کہ یہ واقعی قائد کا پاکستان ہے۔ آج تو ہم سب قائد کے گمشدہ پاکستان کو ڈھونڈ رہے ہیں جو ہمارے مفادات کی نذر ہو کر کہیں کھو گیا ہے۔