محمد علی سدپارہ کے بیٹے نے والد کی موت کی تصدیق کردی

February 18, 2021 5:35 pm0 commentsViews: 13

اسکردو: معروف کوہ پیما محمد علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ نے اپنے والد کی موت کی تصدیق کردی۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسکردو میں صوبائی وزیر سیاحت راجا ناصر علی خان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ملک کے مشہور اور عالمی شہرت یافتہ کوہ پیما محمد علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ نے اپنے والد کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ علی سدپارہ اپنے دو غیر ملکی ساتھیوں کے ہمراہ کے ٹو کی مہم جوئی کے دوران لاپتہ ہوئے، مجھے اور کئی انٹرنیشنل کوہ پیماوں کو یقین ہے کہ انھیں کے ٹو سر کرنے کے بعد واپسی پر حادثہ پیش آیا، اور جس بلندی پر حادثہ ہوا تھا وہاں چند گھنٹوں سے زیادہ زندہ رہنا ممکن نہیں تھا۔

تفصیلات کے مطابق ساجد سدپارہ کا کہنا تھا کہ میرا خاندان انتہائی شفیق باپ سے، پاکستانی قوم سبز ہلالی پرچم سے جنون کی حد تک محبت کرنے والے محب وطن قومی ہیرو سے اور دنیا ایک بہادر اور با صلاحیت مہم جو سے محروم ہوئی ہے، دکھ اور غم کی اس گھڑی میں ہم سب ایک دوسرے کے لیے سہارا بنیں گے ، اورمیں اپنے والد کے مشن کو جاری رکھوں گا اور ان کے ادھورے خواب پورے کروں گا۔

علی سدپارہ کے بیٹے نے کہا کہ پاکستانی قوم کی محبت میرے خاندان کے لیے انتہائی حوصلے اور ہمت کا باعث بنی، وزیر اعظم عمران خان اور پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ، عسکری ایوی ایشن اسکردو کے بہادر پائلٹس، وزیر اعلی خالد خورشید اور فورس کمانڈر میجر جنرل جواد قاضی، سابق فورس کمانڈر جنرل احسان محمود کا مشکور ہوں، کیوں کہ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں تمام دستیاب وسائل استعمال کئے گئے، اور اس طویل ریسکیو آپریشن میں جدید ٹیکنالوجی استعمال کی گئی، ورچوئل اینڈ فزیکل بیس کیمپ ٹیم کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔

ساجد سدپارہ نے بتایا کہ علی سدپارہ نے انتھک محنت، بہادری اور ہنرمندی سے 8 ہزار سے بلند 8 چوٹیاں سر کیں، نانگا پربت کو پہلی بار سردیوں میں سر کر کے ورلڈ ریکارڈ بنایا، جب کہ اسی چوٹی کو چاروں موسموں میں سر کرنے کا بھی ریکارڈ میرے والد کے پاس ہے، دنیا بھر کے کوہ پیماوں نے شاندار الفاظ میں انھیں خراج عقیدت پیش کیا ہے، علی سدپارہ گلگت بلتستان کے نوجوانوں کے لیے عالمی معیار کا ایک کلائمنگ اسکول تعمیر کرنا چاہتے تھے،وزیر اعظم اور چیف آرمی اسٹاف علی سدپارہ کی اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے میری مدد کریں۔

صوبائی وزیر راجا ناصر کا کہنا تھا کہ کے ٹو پر موسمی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت ، پاک فوج اور لواحقین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ لاپتہ کوہ پیما اب اس دنیا میں نہیں رہے، محمد علی سدپارہ اور ساجد سدپارہ کو سول اعزازت سے نوازے جائیں گے، وفاقی حکومت کو سکردو ائیر پورٹ کو محمد علی سدپارہ سے منسوب کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ قومی ہیرو کے بچوں کو تعلیمی سکالرز شپ دی جائے گی، اور ان کے خاندان کی مالی معاونت بھی کی جائے گی، جب کہ حادثات کا شکار ہونے والے کوہ پیماوٴں کے خاندانوں کی کفالت کیلئے باقاعدہ قانون بنایا جائے گا۔

واضح رہے کہ 5 فروری کو کے ٹو کی چوٹی سر کرنے اور وہاں سبز ہلالی پرچم لہرانے کا خواب لیے محمد علی سدپارہ اور ان کے ساتھی 8200 کی بلندی پر بوٹل نک کراس کر چکے تھے کہ اْن سے مواصلاتی رابطہ کٹ گیا،جس کے بعد سے تاحال محمد علی سدپارہ و ساتھی لاپتہ ہیں، جب کہ مہم میں شریک ساجد سدپارہ کے مطابق ان کے والد اور ساتھیوں نے چوٹی سر کر لی تھی اور واپسی پر حادثہ ہوا۔