اوپن بیلٹ کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی، چیف جسٹس پاکستان

February 25, 2021 10:00 am0 commentsViews: 10

سينيٹ انتخابات ميں خفيہ ووٹنگ سے متعلق صدارتی ريفرنس پر سماعت کے دوران چيف جسٹس نے ريمارکس دیئے ہیں کہ اگر آئين کہتا ہے کہ خفيہ ووٹنگ ہوگی تو بات ختم ہوجاتی ہے، اوپن بيلٹ ہونا چاہيے يا سيکريٹ فيصلہ پارليمنٹ کرے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ عدالت تعين کرے گی کہ سينيٹ اليکشن پر آرٹيکل 226 لاگو ہوتا ہے يا نہيں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان میں بدھ کو سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کرانے سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں قائم 5 رکنی لارجر بینچ نے کی۔

سماعت کے دوران سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی کے وکیل بیرسٹر صلاح الدین نے اپنے دلائل میں کہا کہ دو حکومتوں کے درمیان تنازع پر ریفرنس دائر کیا جا سکتا ہے، عدالت کو جائزہ لینا ہوگا کہ ریفرنس پر فوری جواب دینا لازمی ہے یا نہیں۔ چیف جسٹس نے جواب میں کہا کہ ریفرنس آچکا ہے، اس پر ہر صورت رائے دیں گے، جو سوال ریفرنس میں پوچھے گئے ہیں اس پر ہی جواب دیں گے، اگر آئین کہتا ہے کہ خفیہ ووٹنگ ہوگی تو بات ختم ہوجاتی ہے، سپریم کورٹ پارلیمان کا متبادل نہیں، ریاست کے ہر ادارے نے اپنا کام حدود میں رہ کر کرنا ہے، پارلیمان کا اختیار اپنے ہاتھ میں نہیں لیں گے۔

پیپلز پارٹی کے وکیل رضا ربانی نے اپنے دلائل کے دوران سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہاں ایوان زیریں میں ووٹنگ کی مثالیں دی گئیں، عدالت کے سامنے ایوان زیریں کا نہیں بلکہ ایوان بالا کا معاملہ ہے، خفیہ ووٹ رائے دہندہ کا اپنا راز ہے، وہ اپنا راز کسی اور ووٹر سے تو شیئر کرسکتا ہے ریاست سے نہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ آپ کی دلیل صرف قومی اسمبلی کے انتخاب کیلئے کارگر ہے، قومی اسمبلی کا ووٹ فری ہوتا ہے، فری ووٹ کا مطلب ووٹر کی آزادی ہے، سینیٹ کے ووٹ کیلئے فری نہیں کہا گیا، اس لئے اس کا خفیہ ہونا ضروری نہیں، متناسب نمائندگی کے تصور کو رکھیں تو پھر ووٹ کو خفیہ رکھنے کی کوئی وجہ نہیں۔

پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے اپنے دلائل میں کہا کہ سینیٹ انتخابات میں اراکین اسمبلی انفرادی حیثیت میں ووٹ دیتے ہیں ناکہ بطور پارٹی۔

جس پر جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ نائیک صاحب کیا آپ کی پارٹی نے اپنے اراکین کو بتا دیا ہے کہ وہ ووٹ ڈالنے میں آزاد ہیں؟‘۔ ان ریمارکس پر کمرہ عدالت میں قہقہے گونجنے لگے۔

فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ یہ کام پارٹی قیادت کرے گی، میں آئین و قانون کی روشنی میں دلائل دوں گا، سینیٹ الیکشنز خفیہ ووٹنگ سے ہوتا ہے، ووٹ انفرادی ہو تو رائے شماری خفیہ ہی ہوسکتی ہے، میرے دلائل کرپشن یا ڈیپ اسٹیٹ پر نہیں قانون پر ہوں گے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جہموریت میں پارٹی قیادت کا کوئی کردار نہیں ہوتا، جہموریت میں فیصلے پارٹی کرتی ہے قیادت نہیں، کوئی اوپر سے اپنے فیصلے لاکر نافذ نہیں کرسکتا، پارٹیوں کے فیصلے بھی جہموری انداز میں ہونے چاہئیں، آئین میں پارٹیوں کا ذکر ہے شخصیات کا نہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آئین میں استعمال شدہ لفظ ’الیکشن‘ کو غلط نہ کہیں۔ جسٹس یحییٰ آفریدی کے سوال کیا ہر ایم پی اے ووٹ دینے کیلئے آزاد ہوتا ہے، پر فاروق ایچ نائیک نے جواب دیا کہ پارٹی لائن پر عمل کرنا سینیٹ الیکشنز کیلئے لازمی نہیں۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کس کو ووٹ دینا ہے یہ فیصلہ پارٹیاں کیسے کرتی ہیں؟۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھا کہ اگر پارلیمنٹ سینیٹ الیکشنز میں ترمیم کرے تو کیا اوپن بیلٹ ہوسکتے ہیں؟۔ جس پر فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ آئین سے متصادم نہ ہو تو ترمیم ہوسکتی ہے، خفیہ ووٹنگ میں مداخلت بھی قانون کے مطابق جرم ہے، ووٹ کاسٹ ہونے کے بعد بھی خفیہ ہی رہتا ہے۔

ن لیگ کے بیرسٹر ظفر اللہ نے کہا کہ الیکشنز کی نمائندگی خفیہ ووٹنگ کے ذریعے ہی ممکن ہے، تاریخ کے تناظر میں 226 کی تشریح ممکن ہے، الیکشن ایکٹ کی تیاری کے دوران خفیہ ووٹنگ پر بحث ہوئی تھی، تحریک انصاف سمیت ہر سیاسی جماعت نے اس وقت خفیہ ووٹنگ کی حمایت کی تھی، سینیٹ الیکشنز کے بعد صوبائی اسمبلیاں تحلیل بھی ہوسکتی ہیں۔

جے یو آئی کے وکیل جہانگیر جدون کا دلائل میں کہنا تھا کہ ووٹر کا حق ہے اس کا ووٹ کوئی نہ دیکھ سکے، دو، چار لوگوں کی وجہ سے سب کے ووٹ اوپن نہیں ہوسکتے، عدالت آرٹیکل 226 کا معاملہ پارلیمنٹ پر چھوڑ دے ۔