تحریک انصاف کے امیدوارسیف اللہ ابڑوسینیٹ الیکشن کیلئے اہل قرار

February 25, 2021 8:48 pm0 commentsViews: 8

کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کے امیدوارسیف اللہ ابڑو کوسینیٹ الیکشن کے لیئے اہل قرار دیدیا۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جسٹس محمد علی مظہراورجسٹس امجد علی سہیتو پر مشتمل دو رکنی بینچ کے روبرو پی ٹی آئی کے امیدوار سیف اللہ ابڑو کی الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کیخلاف درخواست پرسماعت ہوئی۔ سیف اللہ ابڑو کی جانب سے مخدوم علی خان نے دلائل دیئے۔ سیف اللہ ابڑو کے وکیل مخدوم علی خان ایڈووکیٹ نے دلائل میں کہا کہ ٹربیونل نے عالمی، ملکی ایچیومنٹس کی غلط تشریح کی۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے آپ قومی ایچیومنٹس پر عدالت کو مطئمن کریں۔ٍ

تفصیلات کے مطابق درخواستگزارکے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 13 منصوبوں کے علاوہ دیگرمنصوبے بھی پارٹنرشپ میں مکمل کیے گئے۔ پارٹنر شپ کے معاہدے موجود ہیں۔ سیف اللہ ابڑو کو ٹاپ پرفارمنس سرٹیفکیٹس دیئے گئے۔ میرے موکل نے فلائی اورر، برج سمیت متعدد منصوبے مکمل کیے۔ مخدوم علی خان ایڈوکیٹ نے سیف اللہ ابڑو کے تعمیراتی منصوبوں کی تفصیلات بتا دیں۔ مخدوم علی خان ایڈوکیٹ نے دلائل دیئے کہ سیف اللہ ابڑو نے ریلوے لائن کوٹری، کوٹری انڈسٹریل ایریا پروجیکٹ بنایا۔ لاڑکانہ سٹی فلائی اورر، کشمور، خیر پورمیں ریلوے لائن پر اورربرج بنایا۔ فلائی اورر برج ٹنڈوم آباد، حیدر آباد میں فلائی اورر بنایا۔ نواب شاہ میں ریلوے لائن پر فلائی اورر برج بنایا۔ سیف اللہ ابڑو نے سکھر سٹی ریلوے لائن برج بنایا۔ میٹرو بس راولپنڈی اسلام آباد میٹرو پروجیکٹ بنایا۔ میٹرو بس ملتان پروجیکٹ میں بھی کام کیا۔

سیف اللہ ابڑوکی قلندر بخش کمپنی ایف بی آر میں رجسٹرڈ ہے۔ سیف اللہ ابڑو کے وکلا مخدوم علی خان، حیدر وحید ایڈووکیٹس نے دلائل مکمل کیئے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے اب الیکشن کمیشن کا موقف پوچھ لیتے ہیں۔ عدالت نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن بتائے، کیا موقف ہے۔ الیکشن کمیشن کے نمائندے نے بتایا کہ شکایت کنندہ کے بارے میں الیکشن رولز میں وضاحت نہیں۔ رولز 112 کے مطابق کوئی بھی شکایت کنندہ بن سکتا ہے۔ سینیٹ کے لیے پورے صوبے سے کوئی بھی شکایت کنندہ بن سکتا ہے۔ الیکشن رولز میں شکایت کنندہ سے متعلق رولز مبہم ہیں۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کیا آپ کو ریٹرنگ افسر کا فیصلہ قبول ہے۔ نمائندہ نے کہا کہ ہمیں تو ریٹرنگ افسر، سب عدالتوں کا فیصلہ بھی قبول ہے۔ ایف بی آر، اسٹیٹ بینک سے سیف اللہ ابڑو کلئیر ہیں۔ سیف اللہ ابڑو کیخلاف نیب انکوائری چل رہی ہے مگر اس سے تعلق نہیں۔ اعتراض کنندہ کے وکیل نے دلائل دیئے کہ کسی امیدوار پر اعتراض پر پابندی نہیں۔ قانون میں اعتراض کننندہ کی 2 مختلف تعریفیں موجود ہیں۔

عدالت نے ریمارکس دیئے یہ ریٹرننگ افسر کو اختیار دیا گیا ہے وہ اجازت دے یا نہیں؟ حسیب جمالی ایڈوکیٹ نے دلائل میں کہا کہ الیکشن میں شفافیت ضروری ہے۔ ریٹرننگ افسر نے اہم نکات کو نظر انداز کیا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ یہ بھی بتائیں کیا امیدوار کو شوکاز جاری کرنا ضروری تھا؟ وکیل اعتراض کندہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عوامی عہدے کیلئے الیکشن لڑنے والا شخص شفافیت سے کیوں بھاگ رہا ہے؟ میں اچیومنٹس اور نیب انکوائری پر بھی دلائل دوں گا۔ حسیب جمالی ایڈوکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سیف اللہ ابڑو نے مس ڈیکلئریشن کی ہے۔ جائدادیں چھپائی ہیں۔ سیف اللہ ابڑو نے گریڈ 11 میں کلیریکل جاب کی ہے۔ ان کے پاس فیصلہ سازی کے اختیارات بھی نہیں تھے۔ قلندر بخش کمپنی کی دستاویزات میں کہیں سیف اللہ ابڑو کا نام نہیں۔ کہیں ثابت نہیں ہوتا اتنے بڑے پروجیکٹس میں ان کا حصہ ہے۔

سیف اللہ ابڑو کو 2014 میں پارٹنر کے طور پر شامل کیا گیا۔ کیا سارے پروجیکٹس میں بیک وقت منیجر رہے؟ یہ 2006 میں سرکاری ملازم تھے پروجیکٹ کا بھی دعوی کررہے ہیں۔ سیف اللہ ابڑو کا 2007 سے تجربے کا دعوی بے بنیاد ہے۔ یہ 2014 سے پہلے کمپنی کا حصہ بھی نہیں تھے۔ اعتراض کنندہ کے وکیل نے مختلف منصوبوں کی دستاویزات پیش کردیں۔ درخواستگزار کے وکیل نے دلائل میں کہا کہ سیف اللہ ابڑو 2008 سے کمپنی کا حصہ ہیں۔ میں پاکستان انجنیرنگ کونسل کی دستاویزات پیش کررہا ہوں۔ کوٹری برج اور دیگر منصوں کی خامیوں پر تحقیقات ہوئیں۔ عدالت نے ریمارکس دیئے ان کا تو دعوی ہے اس پر ایوارڈز ملے ہیں۔

حسیب جمالی ایڈوکیٹ نے موقف اپنایا کہ نیب نے کرپشن پر ریفرنس دائر کررکھا ہے۔ سکھر برج کی بھی انکوائری چل رہی ہے یہ ضمانت پر ہیں۔ ان کا 20 سالہ تجربہ یا کوئی اچیومنٹ نہیں۔ انکم ٹیکس ریٹرن کے حوالے سے بھی جھوٹ بولا گیا۔ سفری اخراجات کی بھی معلومات چھپائی گئیں۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ان سب دستاویزات کی تصدیق کیلئے تو وقت ہونا چاہیے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس میں کہا کہ دو دن میں کیسے ان معاملات کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد سیف اللہ ابڑو کو سینٹ انتخابات کے لیئے اہل قرار دیتے ہوئے الیکشن ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا۔