حکومتی امیدوار کو شکست دے کر یوسف رضا گیلانی کامیاب

March 3, 2021 7:02 pm0 commentsViews: 9

قومی اسمبلی سمیت سندھ ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلیوں میں سینیٹ کی 37 نشستوں کے لیے پولنگ کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے جب کہ اسلام آباد سے بڑا نتیجہ موصول ہوگیا ہے جس کہ مطابق سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی عبدالحفیظ شیخ کے مقابلے میں جنرل نشست پر کام یاب ہوگئے۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کی تمام 11 نشستوں پر امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوچکے ہیں جب کہ آج اسلام آباد کی 2، سندھ کی 11 ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی بارہ بارہ نشستوں پر ووٹنگ ہوئی۔ اس سلسلے میں قومی اسمبلی سمیت تمام صوبائی اسمبلیوں کے ہال کو پولنگ اسٹیشن کا درجہ دیا گیا۔

سینیٹ انتخابات کا سب سے بڑا اپ سیٹ ہوگیا اور اسلام آباد کی جنرل نشست پر حکومتی امیدوار وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کو پی ڈی ایم کے امیدوار سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے شکست دے دی۔ نتیجہ آنے کے بعد عبدالحفیظ شیخ نے یوسف رضا گیلانی کو مبارک باد دی۔ یوسف رضا گیلانی نے 169 ووٹ حاصل کیے جب کہ حکومتی امیدوار حفیظ شیخ کو 164 ووٹ ملے، مسترد شدہ ووٹوں کی تعداد 7 ہے۔ اس طرح یوسف رضا گیلانی کو حکومتی امیدوار پر 5 ووٹوں کی برتری حاصل رہی۔

قومی اسمبلی میں اسلام آباد کی نشستوں پر ڈٖالے گئے ووٹوں میں سے 7 ووٹ مسترد ہوئے تاہم ابھی خواتین کی مخصوص نشست کے لیے ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔

غیر سرکاری نائج کے مطابق بلوچستان کی7جنرل نشستوں پر حکومتی اتحاد 5 پر کامیاب ہوگیا ہے جب کہ اپوزیشن نے سینیٹ کی 2 جنرل نشستیں حاصل کی ہیں۔

موصول ہونے والے غیر سرکاری نتائج کے مطابق بلوچستان عوامی پارٹی کے سرفراز بگٹی، منظور کاکڑ،پرنس آغاعمر احمد زئی جب کہ بی اے پی اور تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار عبدالقادر کامیاب ہوئے ہیں، اس کے علاوہ جے یو آئی (ف) کے مولانا عبدالغفور حیدری، بی این پی مینگل کے محمد قاسم اور عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار عمر فاروق بھی کام یاب ہوگئے ہیں۔

غیر سرکاری غیر حتمی نتائج کے مطابق اب تک سندھ سے نشستوں پر پیپلز پارٹی کے 4 امیدوار کامیاب ہوگئے۔ پیپلزپارٹی کی شیری رحمان، سلیم مانڈوی والا ، جام مہتاب ڈہر، جام مہتاب کامیاب ہوگئے۔ پیپلز پارٹی کی پلوشہ خان اور ایم کیو ایم کی خالدہ اطیب کامیاب ہوگئی ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان نے خیبر پختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کی جانب سے ووٹ ڈالنے کے عمل میں سست روی پر نوٹس لے لیا ہے۔

سہ پہر ڈھائی بجے کے قریب ہی ایوان کے 341 میں سے 340 ارکان نے ووٹ کاسٹ کرلئے تھے تاہم جماعت اسلامی کے عبدالاکبر چترالی پارٹی پالیسی کے تحت ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ جس پر قواعد کے مطابق ریٹرننگ افسر مقرہ وقت تک ان کا انتظار کرتے رہے۔

ووٹنگ کے دوران تحریک انصاف کے رہنما شہریار آفریدی نے بیلٹ پیپر پر دستخط کردیئے، جس سے شہریار آفریدی کا ووٹ ضائع ہوگیا۔

سینیٹ انتخابات کے دوران پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق صدر آصف علی زرداری بھی ووٹ کاسٹ کرنے پہنچے، ان کا بیلٹ پیپر کچھ وجوہات کی بنا پر ضائع ہوگیا جس پر انہیں دوسرا بیلٹ پیپر جاری کیا گیا۔

پولنگ کے دوران قومی اسمبلی میں اراکین کے موبائل اندر لے جانے پر عائد پابندی پر سختی سے عملدرآمد کرایا گیا، اس حوالے سے پیپلز پارٹی کے ایم این اے عبدالقادر پٹیل اور سکیورٹی عملے کے درمیان تکرار بھی ہوئی، عبدالقادر پٹیل نے تکرار کے بعد اپنا موبائل فون جمع کرادیا اور کہا کہ اگر حکومتی رکن میں سے کوئی موبائل فون اندر لایا تو ذمہ دار سیکیورٹی عملہ ہوگا۔

’شاہدہ رحمانی نے ریٹرننگ آفیسر کے پاس احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ق) کے چوہدری سالک نے ووٹ کی تصویر بنائی ہے، ان کی تلاشی لی جائے۔ جس پر چوہدری سالک کے حمایتوں کا احتجاج کیا۔

قومی اسمبلی میں پہلا ووٹ تحریک انصاف کے شفیق آرائیں جب کہ دوسرا فیصل وواڈا نے کاسٹ کیا۔ سندھ اسمبلی میں سب سے پہلا ووٹ میر شبیر بجارانی نے کاسٹ کیا۔ خیبر پختونخوا اسمبلی میں پہلا ووٹ جے یو آئی (ف) کے ہدایت الرحمان نے کاسٹ کیا۔ بلوچستان اسمبلی میں صوبائی وزیر زمرک اچکزئی نے سب سے پہلے اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔

سندھ اسمبلی میں پیپلزپارٹی کے پولنگ ایجنٹس کی شکایت پر پی ٹی آئی کے خرم شیر زمان کی جیب سے موبائل فون برآمد ہوا جبکہ پی ٹی آئی ہی کے رکن کریم بخش گبول کی جیب کی تلاشی لی گئی تاہم انکی جیب سے موبائل فون برآمد نہیں ہوا۔ موبائل فون اندر لے جانے پرپیپلزپارٹی اورر پی ٹی آئی پولنگ ایجنٹس میں تکرار بھی ہوئی۔

سندھ اسمبلی میں پولنگ کے دوران معمر اور علیل ارکان اسمبلی کو الیکشن کمیشن کی جانب سے خصوصی رعایت دی گئی، مرادعلی شاہ سینئر کو نظر کی کمزوری کے باعث ووٹ کاسٹ کرنے کے لئے ساتھی رکن کی مدد فراہم کی گئی، وہیل چیئر پر آنے والی پیپلزپارٹی کی بزرگ خاتون رکن اسمبلی پروین بشیر کا ووٹ ارباب لطف اللہ کے ذریعے کاسٹ کروایا گیا جب کہ پیپلزپارٹی ہی کے علی نواز مہر کے ہاتھ میں فریکچر کے اور بشیر ہالیپوٹہ کی علالت اور وہیل چیئر پر ہونے کی وجہ سے دوسرے ارکان نے بیلٹ پیپر پر نشانات لگائے۔

کئی اعتبار سے اس بار سینیٹ کا حالیہ انتخاب ہنگامہ خیز رہا ہے۔ انتخاب سے قبل صدر کی جانب سے طریقہ کار تبدیل کرکے سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ سے کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں ریفرینس دائر کیا گیا تاہم عدالت نے آئین میں بیان کردہ طریقہ کار برقرار رکھا۔ اس سے قبل حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے انتخابات میں کام یابی اور انتخابی عمل میں خرید وفروخت کے دعوے بھی سامنے آتے رہے ہیں۔