وزیراعظم عمران خان کا قوم سے خطاب

March 4, 2021 7:11 pm0 commentsViews: 11

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا قوم سے خطاب شروع ہوگیا۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی مسائل کو سمجھنے کے سینیٹ کے الیکشن میں جو کچھ ہوا اسے سمجھنا ضروری ہے۔ سینیٹ میں گذشتہ تیس چالیس سال سے پیسہ چلتا ہے۔ جو سینیٹر بننا چاہتا ہے وہ ارکان پارلیمنٹ کو خریدتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ کے اندر ملک کی لیڈر شپ آتی ہے اور ارکان پارلیمنٹ انہیں منتخب کرتے ہیں۔ مجھے تب سے حیرت رہی کہ سینیٹر رشوت دے کر یہ نمائندگی حاصل کرتا ہے اور دوسری جانب قومی اسمبلی کے رکن ضمیر بیچتے ہیں۔ تب سے اوپن بیلٹ کے لیے مہم شروع کی۔ انہوں نے کہا کہ جب سینیٹ انتخاب میں 20 رکن نے ووٹ بیچا تو انہیں پارٹی سے نکال دیا۔ پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے میثاق جمہوریت میں اوپن بیلنٹ کی بات کی تھی۔ جب ان پارٹیوں نے بھی اوپن بیلٹ کی تائید نہیں کی تو ہم سپریم کورٹ گئے جہان جج صاحبان نے بھی بار بار سینیٹ الیکشن میں پیسا چلنے کی بات کی۔

نجی ٹی وی کے مطابق عمران خان نے کہا کہ ریفرینس کے دوران ایک ویڈیو سامنے آئی اور اس ریفرینس کی سماعت کے دوران عدالت نے الیکشن کمیشن کو انتخاب شفاف کروانے کی تاکید کی۔ خفیہ رائے شماری کو اپوزیشن نے جمہوریت کے خلاف قرار دیا جب کہ میثاق جمہوریت میں یہ اس پر متفق ہوچکے تھے۔

انہوں نے کہا کہ میں آج آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ ان کا مقصد صرف یہ ہے کہ ان پر کرپشن کے مقدمات ختم کردیے جائیں اور میں انہیں مشرف کی طرح این آر او دے دوں۔ لیکن میرے انکار کرنے پر انہوں نے کوششیں شروع کردیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کورونا میں اپوزیشن نے حکومت کو ناکام کرنے کی کوشش کی اسی طرح فیٹیٖ کی گرے لسٹ سے نکلوانے کے لیے ہونے والی قانون سازی میں بھی ہم سے نیب کی قوانین میں تبدیلی لانے کے لیے دباؤ ڈالا۔ مجھے ان کا صرف ایک دباؤ ہے کہ میں انہیں این آر او دے دوں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اپوزیشن نے اوپن بیلٹ کی مخالفت اس لیے کی کہ حفیظ شیخ اور یوسف گیلانی کے انتخابات میں پیسا چلانا تھا۔ یوسف گیلانی کو سینیٹ انتخاب جتوا کر میرے سر پر ان کا مقصد عدم اعتماد کی تلوار لٹکا کر این آراو حاصل کرنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ آزادی کے بعد پاکستان کا وقار تھا لیکن 1985 کے غیر جماعتی انتخاب کے بعد سیاست میں پیسہ اور کرپشن عروج پر پہنچ گیا۔ اس کے بعد سے ملک کا زوال شروع ہوا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کے حوالے سے صدر مملکت عارف علوی نے ہفتے کو 12 بجے اجلاس طلب کرلیا ہے، جس کی وزیر اعظم عمران خان نے منظوری بھی دے دی ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے ارکان قومی اسمبلی کو اسلام آباد سے باہر جانے سے روک دیا ہے اور تمام ارکان کو آئندہ اجلاس میں حاضری یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی، اور پی ٹی آئی کے تمام ارکان کو وزیراعظم عمران خان کا پیغام پہنچا دیا گیا ہے۔