وزیراعظم عمران خان پر اعتماد کے ووٹ کیلئے قومی اسمبلی کا اجلاس

March 6, 2021 12:30 pm0 commentsViews: 14

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اہم ترین اجلاس جاری ہے جس میں وزیراعظم کے لیے اعتماد کے ووٹ کا فیصلہ ہوگا، وزیراعظم اگر ناکام ہوگئے تو اسپیکر صدر مملکت کو خط لکھیں گے کہ وزیراعظم ایوان کا اعتماد کھو بیٹھے اور نئے وزیراعظم کا انتخاب کیا جائے۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق

وزیراعظم عمران خان، حکومت اور اتحادی جماعتوں ایم کیو ایم، جی ڈی اے اور ق لیگ سمیت 180 سے زائد ممبران اجلاس میں شریک ہیں۔

جماعت اسلامی کے رکن مولانا اکبر چترالی اور پی ٹی ایم کے رکن محسن داوڑ بھی اجلاس میں شریک ہیں تاہم اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم نے اجلاس کا بائیکاٹ کردیا ہے اور اس کے ارکان اجلاس میں شریک نہیں۔

پی ٹی آئی ارکان نے پارلیمنٹ ہاؤس میں بینرز اٹھائے ہوئے ہیں جن پر نواز شریف اور آصف زرداری کی تصاویر کے ساتھ “نوٹ کو عزت دو” کا نعرہ درج ہے۔ حکومتی ممبران نے اپوزیشن بنچوں پر نوٹ کو عزت دو کے کتبے رکھ دیے۔

وزیراعلیٰ محمود خان، گورنر خیبرپختوخوا شاہ فرمان، وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار، گورنر محمد سرور، وزیراعلی بلوچستان جام کمال، گورنر سندھ عمران اسماعیل بھی پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے ہیں اور مہمانوں کی گیلری میں بیٹھے ہیں۔

قبل ازیں حکومتی ارکان نے لابی میں ناشتہ کیا۔ ان کی حلوہ پوری، پراٹھے، چنے اور چائے سے تواضع کی گئی۔ خواتین ارکان کی جانب سے عمران خان کے حق میں نعرے لگائے گئے۔

سینیٹ انتخابات میں اسلام آباد کی جنرل نشست پر حکومت کی شکست کے بعد وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے لیے صدر مملکت نے آئین کے آرٹیکل 91 کی شق 7 کے تحت قومی اسمبلی اجلاس طلب کیا۔

اجلاس میں دو نکاتی ایجنڈے کے تحت کارروائی ہوگی۔ تلاوت کلام پاک کے بعد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے وزیراعظم پر اعتماد کے ووٹ کی قرارداد پیش کی جس میں کہا گیا کہ یہ ایوان دستور کے آرٹیکل 91 کی شق 7 کے مطابق وزیراعظم عمران خان پر اعتماد کا اظہار کرتا ہے۔

وزیراعظم آئین کے آرٹیکل 91 کی ذیلی شق 7 کے تحت ایوان سے اعتماد کا ووٹ حاصل کریں گے۔ ووٹنگ کے لیے ایوان کی ڈویژن کی جائے گی اور ڈویژن سے قبل ایوان میں 5 منٹس کے لیے گھنٹیاں بجائی جائیں گی۔

تمام ارکان کے ایوان میں آنے کے بعد قومی اسمبلی ہال کی تمام لابیاں مقفل کردی جائیں گی۔ وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ دینے والے اسپیکر قومی اسمبلی کی دائیں جانب لابی میں ڈویژن نمبر کے ساتھ جائیں گے۔ عدم اعتماد والے ارکان اسپیکر کی بائیں جانب والی لابی میں ڈویژن نمبر کے ساتھ جائیں گے۔

ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بھی 5 منٹ تک گھنٹیاں بجیں گی۔ بعد ازاں اسپیکر قومی اسمبلی گنتی کے بعد نتیجے کا اعلان کریں گے۔ نتیجے کے اعلان کے ساتھ ہی صدر مملکت کو تحریری طور پر نتیجہ ارسال کیا جائے گا اور اجلاس برخاست کردیا جائے گا۔

وزیراعظم عمران خان کو ایوان کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے 172 ارکان کی حمایت حاصل کرنا ہوگی، اگر وزیراعظم مطلوبہ ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہے تو ایسی صورت میں اسپیکر قومی اسمبلی رولز 38 کے تحت صدر مملکت کو لکھیں گے کہ وزیراعظم ایوان کا اعتماد کھو بیٹھے ہیں جس کے بعد صدر وزیراعظم کے دوبارہ انتخاب کے لیے اسپیکر قومی اسمبلی کو کہیں گے جس کے بعد قومی اسمبلی نئے وزیراعظم کا انتخاب کرے گی۔

ذرائع کے مطابق وزیر اعظم کے اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے پی ٹی آئی نے ارکان کو اجلاس کے وقت سے قبل پارلیمنٹ ہاؤس پہنچنے کی ہدایت کی تھی۔ تمام ارکان کو قومی اسمبلی کارڈ لازمی ساتھ لانے کی ہدایت کی گئی۔