ظالموں پراللہ اپنا عذاب ضرور نازل کرے گا، الطاف حسین

July 22, 2015 3:50 pm0 commentsViews: 26

رینجرز کے غیر آئینی اور غیر قانونی اقدامات کو صبر و تحمل سے برداشت کررہے ہیں
آرمی اس وقت خود شدید انتشار کا شکار ہے، رابطہ کمیٹی کے اراکین سے گفتگو
لندن( پ ر) متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ ہم رینجرز کے غیر آئینی وغیر قانونی اقدامات کو صبر و تحمل کے ساتھ برداشت کر رہے ہیں لیکن ہمیں یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ ظالموں پر اپنا عذاب ضرور نازل کرے گا، خواہ وہ سویلین ڈریس میں ہوں یا وردی میں ہوں۔ الطاف حسین نے کہا کہ میری معلومات کے مطابق اس وقت آرمی خود انتشار کا شکار ہے اور ملٹری انٹیلی جنس ( ایم آئی)، چیف آف آرمی اسٹاف کے ساتھ ہے جبکہ آئی ایس آئی کا پورا محکمہ اور اس کے اہلکار ڈی جی آئی ایس آئی جنرل رضوان اختر کے ساتھ ہیں۔ جو اس وقت آرمی چیف سے زیادہ پاور رکھتے ہیں۔ پیر کی شب رابطہ کمیٹی کے اراکین سے گفتگو کرتے ہوئے الطاف حسین نے کہا کہ میری مزید اطلاعات کے مطابق یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جنرل رضوان اختر کو چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف کے بعد آرمی چیف بنایا جائے گا جس کے بارے میں عسکری حلقوں میں اعلیٰ سطح پر اور وفاقی سول حکومت کے مابین اتفاق ہو چکا ہے۔

پہلے ہم بھوک ہڑتال کرینگے نائن زیرو اور انٹرنیشنل سیکریٹریٹ پر پیغامات کا تانتا بڑھ گیا
کارکنوں نے الطاف حسین کی جانب سے تا دم مرگ بھوک ہڑتال کے فیصلے کو کثرت رائے سے مسترد کر دیا
الطاف حسین نہیں بلکہ ایم کیو ایم کے لاکھوں کارکن تادم مرگ بھوک ہڑتال کریں گے
کراچی( اسٹاف رپورٹر) پاکستان سمیت دنیا بھر میںمقیم مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اور ایم کیو ایم کے کارکنان نے قائد تحریک الطاف حسین کی جانب سے تادم مرگ بھوک ہڑتال کے فیصلے کو یکسر مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ الطاف حسین نہیں بلکہ ایم کیو ایم کے لاکھوں کارکنان تادم مرگ بھوک ہڑتال کریںگے او ر ظلم کیخلاف اپنا بھر پور احتجاج ریکارڈ کرائیں گے‘ ہم جانتے ہیں الطاف حسین نے بھوک ہڑتال کا فیصلہ قوم کے وسیع تر مفاد نہیں بلکہ الطاف حسین کی زندگی عزیز ہے۔ الطاف حسین کی جانب سے بھوک ہڑتال کے فیصلے کی خبر کے بعد ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو اور انٹر نیشنل سیکریٹریٹ لندن میں ٹیلی فون‘ فیکس اور ای میل پر پیغامات کا تانتا بندھ گیا‘ پیغامات بھیجنے والوں میں تاجر‘ صنعتکار‘ علمائے کرام‘ وکلاء‘ طالب علم اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔

Tags: