بھارت، مسلمان لڑکیوں سے ہندو لڑکوں کی بدتمیزی کے بعد فسادات شروع

July 23, 2015 6:06 pm0 commentsViews: 17

جمشید پور کے علاقے میں سلمان خان کی فلم دیکھ کر آنے والی لڑکیوں سے اسکارف چھیننے کی کوشش کی گئی
ہندوئوں نے کپڑوں کی دکانوں کو بھی آگ لگا دی، حکومت نے دو روز بعد کرفیو نافذ کر دیا
نئی دہلی( نیٹ نیوز) بھارت کی ریاست جھار کھنڈ میں مسلمان لڑکیوں سے ہندو لڑکوں کی مبینہ بد تمیزی کے بعد فسادات شروع ہوگئے۔ ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ریاست جھار کھنڈ میں جمشید پور کے علاقے مانگو میں دو روز قبل سلمان خان کی فلم بجرنگی بھائی جان دیکھ کر باہر نکلنے والی 3 لڑکیوں سے اوباش نوجوانوں نے اسکارف چھیننے کی کوشش کی ۔ تینوں نوجوان موٹر سائیکل پر سوار تھے جنہوں نے لڑکیوں سے بد تمیزی کی کوشش کی جبکہ وہاں موجود افراد نے مداخلت کی اور اوباش لڑکوں کو منع کیا جس پر زبانی تکرار جھگڑے میں تبدیل ہوگئی اور اسی دوران ان لڑکوں کے حامی مزید افراد آگئے جس کے بعد تصادم شروع ہوگیا۔ تصادم کے دوران دونوں جانب سے ایک دوسرے پر پتھرائو کیا گیا جبکہ ہوائی فائرنگ بھی کی گئی۔ مقامی افراد کے مطابق کئی مسلمانوں کی جمشید پور کی مانگو مارکیٹ میں کپڑوں کی دکانوں کو بھی نذر آتش کر دیا گیا۔ لیکن سرکاری ذرائع کے حوالے سے اس پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔ ہندوستان کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جمشید پور میں دو روز سے جاری فسادات کے بعد کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ اس علاقے میں آخری بار کرفیو 23 سال قبل 1992ء میں فسادات کے بعد لگایا گیا تھا۔ حالیہ فسادات کے دوران2 افراد کی ہلاکت کی اطلاع ملی ہے جبکہ130 سے زائد فراد زخمی ہوئے جن میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس سمیت کئی سیکورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔

Tags: