سندھ حکومت کا رکردگی میں سب سے پیچھے بدعنوانی میں آگے

July 24, 2015 4:43 pm0 commentsViews: 33

کرپشن میں ملوث وزراء کو صوبائی کابینہ سے فارغ کرنے کے بجائے صرف قلمدان تبدیل کئے گئے
40 سے زائد ارکان پر مشتمل کابینہ پر ماہانہ کروڑوں روپے خرچ کئے جاتے ہیں
کراچی( نیوز ڈیسک) پیپلز پارٹی نے گزشتہ2 سال سے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرنے والے اور کرپشن میں ملوث وزراء کو سندھ کابینہ سے فارغ کرنے کے بجائے صرف ان کے قلمدان تبدیل کرکے انہیں بچانے کی کوشش کی ہے ایک جانب صوبائی کابینہ میں ناصر حسین شاہ کی شمولیت کے بعد وزراء، مشیران، معاون خصوصی اور معاونین پر مشمل کابینہ کی تعدد40 سے زائد ہوگئی ہے۔ دوسری جانب مختلف اداروں کی تباہی کا ذمہ دار بننے والے بھی اپنے عہدوں پر فائز ہیں۔ جبکہ اتنی بڑی کابینہ رکھنے اور ان پر سرکاری خزانے سے ماہانہ کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود سندھ حکومت کارکردگی میں سب سے پیچھے اور بد عنوانی میں سب سے آگے ہے۔ سندھ کابینہ میں ہونے والے حالیہ ردو بدل اور مبینہ طور پر کرپشن میں ملوث وزراء کو نئے قلمدان کے ساتھ ایک بار پھر عوام پر مسلط کر دیا گیا ہے ان صوبائی وزراء میں وزیر اطلاعات و آبپاشی نثار کھوڑو کے 2 سال تک وزیر تعلیم کی حیثیت سے سیکریٹری تعلیم فضل اللہ پیچوہو اور ایڈیشنل سیکریٹری ریحان بلوچ کے ساتھ شدید اختلافات تھے۔ نثار کھوڑو2 سال تک محکمہ تعلیم کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لئے کوئی عملی کام نہ کر سکے۔ اس دوران انہوں نے تین بار اپنی وزارت سے استعفیٰ بھی دینے کی کوشش کی جبکہ فضل اللہ پیچوہو اور ریحان بلوچ اس سے پہلے سابق وزیر تعلیم پیر مظہر الحق کے ساتھ بھی ان ہی عہدوں پر موجود تھے۔

Tags: