ڈکیتیوں میں ملوث پولیس افسران اب بھی نوکری پر ہیں‘ سپریم کورٹ

July 24, 2015 5:03 pm0 commentsViews: 20

جرائم میں ملوث ایک ہزار اہلکاروں کے خلاف کارروائی میں 44 افسران کو برطرف کیاگیا‘ آئی جی سندھ کا موقف‘ عدالت نے رپورٹ مسترد کردی
برطرف افسران کو ایک ماہ بعد بحال کیوں کیاگیا‘ پولیس ویلفیئر کی آڑ میں فنڈز ہڑپ کئے جارہے ہیں‘ عدالت رپورٹ دوبارہ پیش کرنے کا حکم
کراچی ( اسٹاف رپورٹر) سپریم کورٹ نے جرائم میں ملوث اور خراب کارکردگی کے حامل پولیس افسران و اہلکاروں کے خلاف کارروائی سے متعلق کیس میں آئی جی سندھ کی رپورٹ غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے 4 ہفتوں میں رپورٹ دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ جسٹس امیر ہانی مسلم کی سربراہی میں لارجز بنچ نے جرائم میں ملوث افسران و اہلکاروں کے خلاف کارروائی سے متعلق کیس کی سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سماعت کی۔ سماعت کے دوران آئی جی جی سندھ کی جانب سے جرائم میں ملوث پولیس افسران و اہلکاروں کے خلاف کارروائی سے متعلق رپورٹ پیش کی گئی جس میں بتایا گیا کہ خراب کارکردگی اور جرائم میں ملوث افسران و اہلکاروں کے خلاف کارروائی کیلئے2 رکنی بنچ تشکیل دی گئی تھی اور اس کمیٹی نے3 ہزار 4سو74 افسران و اہلکاروں کے خلاف رپورٹ مرتب کی جس کے بعد1 ہزار کے خلاف کارروائی کی گئی جبکہ44 افسران و اہلکاروں کو ملازمت سے بر طرف کیا گیا۔ جس پر جسٹس امیر ہانی مسلم نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ یہ کس طرح کی کارروائی کی گئی ہے جس میں صرف44 افسران کو بر طرف کرنے کے ایک ماہ بعد ہی دوبارہ بحال کر دیا گیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ بتایا جائے کہ کتنے افسران کو برطرف کیا گیا جس پر آئی جی سندھ نے بتایا کہ44افسران کو برطرف اور681 افسران کو مختلف سزائیں دی گئیں۔ اس موقع پر جسٹس امیر ہانی مسلم نے آئی جی سندھ سے استفسار کیا کہ ان افسران کو ایک ماہ بعد پھر بحال کیوں کر دیا گیا اور اغواء برائے تاوان اور ڈکیتی میں ملوث افسران اب بھی نوکری کر رہے ہیں۔ جسٹس امیر ہانی مسلم کا کہنا تھا کہ ہمیں سبز باغ نہ دکھائے جائیں۔ پولیس کی بہتری کیلئے کام کریں جبکہ81 فیصد پولیس افسران کے کردار( کیریکٹر رول) ہی موجود نہیں اور پولیس لائن گارڈن میں گھروں پر چھت نہیں ہے اور پویس ویلفیئر کی آڑ میں فنڈز ہڑپ کئے جا رہے ہیں بعد ازاں فاضل عدالت سپریم کورٹ نے آئی جی سندھ کی رپورٹ کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے 4ہفتوں میں رپورٹ دوبارہ پیش کرنے کی ہدایت کرد ی۔

Tags: