آج صبح ایم کیو ایم کراچی رابطہ کمیٹی برطرف

July 25, 2015 12:36 pm0 commentsViews: 27

ایم کیو ایم کیخلاف ہونیوالی کارروائیوں پر احتجاج نہیں کیاجارہا، رابطہ کمیٹی کے برطرف ارکان نائن زیرو آنے کی زحمت نہ کریں، الطاف حسین
کیف الوریٰ، عبدالحسیب اور عارف خان ایڈووکیٹ بدستور ممبر رہیں گے، رابطہ کمیٹی لندن کے بارے میں آج یا کل فیصلہ کردیاجائے گا، رابطہ کمیٹی کو ذمہ داریاں صحیح طریقے سے پوری نہ کرنے پر برطرف کیا گیا، ایم کیو ایم کا اعلامیہ
نئی رابطہ کمیٹی کیلئے سینئر ارکان اپنے کوائف نائن زیرو میں جمع کروائین، متحدہ قائد، ایک دو روز میں مزید اہم فیصلے متوقع، کارکنوں کی گرفتاریوں پر موثر احتجاج نہ کرنے پر الطاف حسین رابطہ کمیٹی سے ناراض ہیں، ذرائع
کراچی( مانیٹرنگ ڈیسک) آج صبح ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کراچی کو برطرف کر دیا گیا۔ کیف الوریٰ ، عبدالحسیب اور عارف خان ایڈووکیٹ بدستور رابطہ کمیٹی کے ممبر رہیں گے۔ رابطہ کمیٹی لندن کے بارے میں آج یا کل فیصلہ کیا جائے گا، اعلامیہ جاری کر دیا گیاایک دو روز میں مزید اہم فیصلے متوقع ہیں تفصیلات کے مطابق آج صبح ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے رابطہ کمیٹی کراچی کو برطرف کر دیا۔ زرائع کے مطابق ذمہ داریاں پوری نہ کرنے پر رابطہ کمیٹی کو برطرف کیا گیا ہے۔ کیف الوریٰ، عبدالحسیب اور عارف خان ایڈووکیٹ بدستور اپنے فرائض انجام دیتے رہیں گے۔ رابطہ کمیٹی لندن سے متعلق آج یا کل فیصلہ کر دیا جائے گا۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ نئی رابطہ کمیٹی کے سینئر ارکان اپنے کوائف نائن زیرو پر جمع کرائیں۔ انہوں نے کہا کہ رابطہ کمیٹی کے برطرف ارکان اب نائن زیرو آنے کی زحمت نہ کریں۔ یاد رہے کہ چند روز قبل بھی الطاف حسین نے رابطہ کمیٹی کو تحلیل کر دیا تھا۔ اور ایم کیو ایم کو ختم کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم کارکنوں کے اصرار پر انہوں نے اپنا فیصلہ واپس لے لیا تھا۔ ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کارکنوں کی گرفتاریوں کے خلاف رابطہ کمیٹی کی جانب سے موثر احتجاج نہ کرنے پر ناراض ہیں اور انہوں نے رابطہ کمیٹی ارکان کا فون بھی غصے میں بند کر دیا تھا ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم کی جانب سے ایک دو روزمیں مزید اہم فیصلے متوقع ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ الطاف حسین نے احتجاجی دھرنوں کے بارے میں حکمت عملی طے نہ کرنے پر رابطہ کمیٹی کو برطرف کیا ہے کیونکہ الطاف حسین دھرنوں کے ذریعے حکومت پر سیاسی دبائو بڑھانا چاہتے تھے لیکن رابطہ کمیٹی اس سلسلے میں لا پرواہی کا مظاہرہ کر رہی تھی۔

Tags: