ادارے الرٹ رہیں‘ بڑے سیلاب کا خدشہ ہے‘ وزیراعظم

July 25, 2015 12:58 pm0 commentsViews: 20

چترال میں سیلاب کی وجہ بارش سے زیادہ گلیشیئر کا پگھلنا ہے‘ پانی کے بہائو میں اضافہ نہ ہوا تو سیلاب آسکتا ہے
ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے مناسب تعداد میں کشتیوں اور ہیلی کاپٹرز کا انتظام ہونا چاہئے‘جنوبی پنجاب میں متاثرہ علاقوں کا دورہ
رحیم یار خان( نیوز ایجنسیاں) وزیر اعظم محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ چترال میں سیلاب کی وجہ بارش سے زیادہ گلیشیئر کا پگھلنا ہے۔ ادارے الرٹ رہیں بڑے سیلاب کا خدشہ ہے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے مناسب تعداد میں کشتیاں اور ہیلی کاپٹر کا انتظام بھی ہونا چاہئے متاثرین کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑینگے۔ حکومت متاثرہ گھروں کی تعمیر کیلئے امداد فراہم کرے گی اور نقصانات کا ازالہ کرے گی۔ لوگ گھر بار چھوڑ کر خیموں میں رہ رہے ہیں انہیں دوائیاں اور کھانے پینے کی اشیاء بر وقت فراہم کی جائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو جنوبی پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے کے موقع پر ضلعی حکام، متاثرین اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ قبل ازیں وزیر اعظم نے سیلاب زدہ علاقوں کا فضائی جائزہ لیا۔ متاثرہ علاقوں کے دورے کے دوران ضلعی حکام سے خطاب اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے امدادی کارروائیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں کشتیاں پہنچنی چاہئیں، مظفر گڑھ میں بچوں کے ڈوبنے کا بہت دکھ ہے کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کیلئے اچھی ٹیم موجود ہے۔ وزیر اعظم نے رحیم یار خان اور راجن پور کے دورے کے دوران امدادی کارروائیوں اور کیمپوں کا جائزہ لیا۔ وزیر اعظم نے علاقے کا فضائی جائزہ بھی لیا۔ اس موقع پر چیف سیکریٹری پنجاب، ڈی سی رحیم یار خان اور کمشنر رحیم یار خان بھی موجود تھے۔ ڈی سی رحیم یار خان نے سیلاب کے نقصانات اور امدادی سرگرمیوں پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ رحیم یار خان کی چار تحصیلوں میں56 ہزار افراد سیلابی پانی سے متاثر ہوئے ہیں۔ رحیم یار خان کے66 مواضعات زیر آب آئے ہیں۔ انہوں نے بریفنگ میں بتایا کہ سیلاب سے41 ہزار 396 ایکڑ پر فصلیں بھی تباہ ہوئگیں۔

Tags: