سندھ ہائی کورٹ نے بینکوں کو گھریلو قرض کی ماہانہ اقساط میں اضافے سے روک دیا

July 25, 2015 1:00 pm0 commentsViews: 16

کی بور بینچ مارک کا اطلاق ہوم لون پر نہیں ہوگا، سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ
سندھ ہائی کورٹ نے بینک کیخلاف دعوے میں قرض نادہندگان کے حق میں ڈگری جاری کر دی
کراچی( اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عزیز الرحمن پر مشتمل سنگل بنچ نے اپنے ایک حالیہ رپورٹ شدہ فیصلے میں بینک کے خلاف ڈگری جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ (KIBOR) کی بور بنچ مارک کا اطلاق ہوم لون اور کنزیو مر فنانسنگ پر نہیں ہوگا اور بینکوں کو مروجہ قوانین اور اسٹیٹ بینک کے سر کلر و ہدایات کی موجودگی میں مکانات کی تعمیر یا خرید کے لئے دئیے گئے قرضوں کی طے شدہ ماہانہ اقساط میں اضافے کا حق حاصل نہیں ہے۔ قرض دہندگان کے وکلاء سالم سلام انصاری اور ذیشان عبداللہ اور بینک کے وکیل عبدالستار لاکھانی کے دلائل سننے کے بعد اپنے 46 صفحات پر مشتمل طویل فیصلے میں جو کارپوریٹ ڈائجسٹ کے حالیہ شمارے میں شائع ہوا۔ سندھ ہائی کورٹ کے فاضل جج جسٹس عزیز الرحمن نے اسٹیٹ بینک کے متعدد سر کلرز اور 17 عدالتی فیصلوں کی روشنی میں متعدد بینکاری قوانین کی شقوں کے حوالے سے قرار دیا ہے کہ گھریلو قرضوں اور ہوم لون کی ماہانہ اقساط میں اضافہ اور سب سے پہلے جاری شدہ ماہانہ اقساط کے شیڈول کو تبدیل کرنا غیر قانونی ہے جس کے بینک قانونی اور اخلاقی طور پر بڑھانے کے مجاز نہیں ہیں۔ پاک لیبیا ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ ( بینک) کے خلاف دائر کر دہ دائمی حکم امتناعی، استقرار حق، تنسیخی دستاویزات اور6 کروڑ کی وصولیابی کا دعویٰ جو کہ ڈاکٹر شکیل احمد صدیقی اور ڈاکٹر بلند اقبال نے دائر کیا تھا کی8 تنقیحات کا تصفیہ کرتے ہوئے بینک کے خلاف ڈگری جاری کر دی۔ مدعا علیہان کی پیروی سالم سلام انصاری و ذیشان عبداللہ ایڈووکیٹس اور بینک کی پیروی عبدالقادر لاکھانی ایڈووکیٹ نے کی۔

Tags: