گرین بس کا کرایہ40 روپے وصول کرنے پر مسافروں کا احتجاج

July 25, 2015 1:07 pm0 commentsViews: 17

زائد کرایہ مانگنے پر عملے اور مسافروں کے درمیان ہاتھاپائی، مسافروں نے احتجاجاً گرین بس روک لی
مسافروں کے ہنگامے کے باعث قومی شاہراہ پر ٹریفک جام، پولیس کی مداخلت پر لوگ منتشر
کراچی( اسٹاف رپورٹر) گلشن حدید سے ٹاور تک چلنے والی گرین بس کے کرائے کا تنازع حل نہ ہو سکا۔ قائد آباد میں40روپے کے کرائے کے دو ٹکٹ دینے پر مسافروں نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے گاڑی روک دی جبکہ ایک گھنٹے بعد پولیس نے مداخلت کرکے معاملے کو حل کرانے کی یقین دہانی پر بس چلوا دی۔ تفصیلات کے مطابق گلشن حدید میں پرائیوٹ کوچ کی اجارہ داری ختم کرنے کیلئے عوامی احتجاج کے بعد سندھ حکومت نے ٹاور تک گرین بس چلا کر عوام کو سہولت فراہم کی تھی وہ ٹھیکیدار کو دینے کے بعد زحمت بن گئی ہے۔ مسافروں کا کہنا تھا کہ ابتدائی دنوں میں ٹاور تک کرایہ40 روپے مقرر کیا گیا جو بعد میں عوامی اعتراضات کے نتیجے میں 20 روپے کر دیا گیا لیکن ٹھیکیدار بس عملے نے اس اس فیصلے کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے کرایہ40 روپے ہی بر قرار رکھا ہے۔ 40 روپے زبردستی مانگنے پر مسافروں اور عملے میں قائد آباد کے قریب جھگڑا ہوگیا اور مسافروں نے احتجاج کرتے ہوئے قومی شاہراہ پر دھرنا دیا اور بس کو رکوا دیا جس کے باعث ٹریفک جام ہوگیا۔ ایک گھنٹے کے بعد پولیس نے مداخلت کی اور متنازع کرائے کے حل کا یقین دلایا جس کے بعد بس کو روانہ کر دیا گیا۔ مسافروں کا کہنا تھا کہ گرین بس کا عملہ غنڈا گردی کے ذریعے جبری طور پر غیر قانونی کرایہ وصول کرتا ہے۔

Tags: