آج کراچی میں طوفانی بارشوں کی پیشگوئی سیلاب سے تباہی سندھ کے 50دیہات ڈوب گئے

July 27, 2015 4:19 pm0 commentsViews: 523

طوفانی بارشوں سے آدھا پشاور شہر ڈوب گیا، پانی گھروںمیں داخل ہونے سے لوگ محصور ہوگئے، چترال میں قیامت خیز سیلابی ریلے کی تباہ کاریاں رک نہ سکیں، مرنے والوں کی تعداد32ہوگئی
ملک بھر میں بارشوں سے سیلاب سے مزید30افراد ہلاک
خیرپور اور کچے کے علاقوں میں درجنوں دیہاتوں کا ایک دوسرے سے رابطہ کٹ گیا، ایک سو سے زائد گائوں سیلابی ریلے میں پھنسے ہوئے ہیں، گڈو اور سکھر بیراج میں سیلابی صورتحال کے باعث مکینوں کو محفوظ مقامات یا کیمپوں میں منتقل ہونے کی ہدایت، کراچی میں طغیانی بارش کے پیش نظر عوام کو محتاط رہنے کا مشورہ
پشاور میں موسلادھار بارش کے باعث بڈھنی نالے میں طغیانی کے بعد سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی، قریبی علاقوں میں واقع گھروں میں چھ فٹ تک پانی داخل ہوگیا، چترال میں 300 سے زائد گھر، پن بجلی گھر اور دورابطہ پل سیلابی پانی میں بہہ گئے، بھپری لہریں مساجد سمیت متعدد گھروں، اسپتالوں اور دکانوں کو بہا کر لے گئیں، پاک فوج کے جوان امدادی کارروائیوں میں مصروف
کراچی( مانیٹرنگ ڈیسک) کراچی میں آج سے طوفانی بارشیں شروع ہونے کی پیشگوئی شہر میں120 ملی میٹر بارش ہو سکتی ہے۔ جس سے بڑی تباہی کا خطرہ ہے محکمہ موسمیات نے وارننگ جاری کر دی جبکہ رات گئے سے شہر میں ہلکی بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ دوسری طرف سیلاب نے اندرون سندھ میں تباہی مچا دی ہے۔ 50 سے زائد دیہات ڈوب گئے جبکہ خیبر پختونخوا میں اتوار کے روز طوفانی بارش سے آدھا پشاور شہر ڈوب گیا۔ تفصیلات کے مطابق آج صبح سیلابی ریلا دریائے سندھ میں داخل ہونے سے پانی کی سطح مزید بلند ہوگئی ہے۔ آج صبح سکھر بیراج سے4 لاکھ 6ہزار کیوسک، کوٹری بیراج میں ایک لاکھ4 ہزار کیوسک پانی کی آمد ریکارڈ کی گئی۔ جبکہ دریائے جہلم میں منگل ڈیم میں اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا۔ دریائے سندھ کے سیلابی ریلے نے سکھر، روہڑی، پنو عاقل، سانگی، کھڈہری ، جانگھڑو اور منڈو ویرو کے کچے کے علاقوں میں50 سے زائد دیہات کو ڈبو دیا ہے۔ سیلاب کی صورتحال پر نظر رکھنے والے ذرائع نے آئندہ 24 گھنٹوں میں سکھر بیراج پر5 لاکھ کیوسک کا سیلابی ریلہ گزرنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ ادھر خیر پور میں سیلابی ریلے سے الرا جاگیر، جمشیر، فرید آباد اور کے ٹی میر محمد کے کچے کے کئی علاقے ڈوب گئے۔ سجن مہیر رابطہ سڑک زیر آب آگئی ہے۔ جس سے درجنوں دیہات کا ایک دوسرے سے رابطہ کٹ گیا ہے۔ بہت سارے لوگ سیلاب میں پھنسے ہوئے ہیں۔ تحصیل کنگری کے کئی گائوں علی مراد جمالی، بجر جمالی، قیصر خروس، محمد شریف جمالی، رجب ناریجو، قادرن خروس، سجن مہیر، دریا خان شیخ، بہادر جونیجو، سومر ملاح، تگیل موہیل سمیت ایک سو سے زائد گائوں سیلابی ریلے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ کندھ کوٹ میں اولڈ توڑی بند کے مقام پر پل کا گیٹ ٹوٹ گیا۔ علاوہ ازیں ڈائریکٹر جنرل صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سندھ سید سلمان شاہ نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم اے سندھ گدو بیراج اور سکھر بیراج میں سیلابی صورتحال پر مکمل نظر رکھی ہوئی ہے۔ کچے کے مکینوں کو محفوظ مقامات یا کیمپوں میں جانے کی ہدایت جاری کی جا چکی ہیں۔ دوسری طرف آج کراچی میں بھی طوفانی بارشوں کی پیشگوئی کی ہے۔ محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق سندھ میں دوسرا مون سون سسٹم داخل ہو چکا ہے۔ جس کے تحت اندرون سندھ میں موسلا دھار بارشیں شروع ہو چکی ہیں۔ جبکہ کراچی میں آج سے موسلا دھار بارش کا امکان ہے۔ اتوار کو شہر میں ہلکی و معتدل بارش ہوئی، سب سے زیادہ بارش گلشن حدید میں ہوئی جہاں17 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ پیر سے جمعرات تک کراچی اور اندرون سندھ میں وقفے وقفے سے موسلا دھار اور معتدل بارش کا امکان ہے، محکمہ موسمیات کراچی کے ڈائریکٹر عبدالرشید کے مطابق کراچی میں پیر سے جمعرات تک گرج چمک کے ساتھ شدید بارشوں کا امکان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تیز بارش شروع ہوتی ہے تو اس کے ساتھ آندھی کی شکل میں ہوائیں بھی چلتی ہیں۔ اس لئے شہری بارش شروع ہونے کے فوراً بعد نہ نہائیں اور احتیاط برتیں بجلی کے گھمبوں، تاروں اور سائن بورڈز سے دور رہیں اور کچے مکانات اور ٹین کی چادروں سے بھی دور رہیں۔ علاوہ ازیں ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب سے مزید30 افراد جاں بحق ہوگئے۔ پشاور میں موسلا دھار بارش سے آدھا شہر ڈوب گیا۔ چترال میں قیامت خیز سیلابی ریلے کی تباہ کاریاں نہ رک سکیں۔ مستوج کے علاقے میںمزید4 افراد بہہ گئے۔ جس سے چترال میں مرنے والوں کی تعداد32 ہوگئی۔ اتوار کے روز پشاور میں موسلا دھار بارشوں کے باعث بڈھنی نالے میں طغیانی اور سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی۔ بڈھنی نالے میں طغیانی سے قریبی علاقوں کے گھروں میں 3 سے6 فٹ تک پانی داخل ہوگیا۔ چار سدہ روڈ پر بڈھنی پل کو ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند کر دیا گیا، سردار کالونی، خوشحال باغ و دیگر علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا۔ رہائشی افراد گھروں میں محصور ہوگئے ہیں۔ انتطامیہ کے مطابق 100 کے قریب خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا۔ چترال میں300 سے زائد گھر، 2 پن بجلی گھر، 2 رابطہ پل بہہ گئے۔ دکانوں اور اسپتالوں کو بھی نقصان پہنچا۔ سڑکیں بند ہونے سے چترال کی بستیوں میں لوگ محصور ہو کر رہ گئے۔ پاک فوج کے جوان لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق رشین گول نالے میں سیلابی ریلے میں مزید2 افراد بہہ گئے۔ ایک کی لاش بر آمد کر لی گئی۔ بپھری موجیں مسجد سمیت متعدد دکانیں اور گھر بہاکر لے گئیں۔ تیز پانی رابطہ سڑکیں اور پل بہا کر لے گئے اور متعدد دیہات ایک دوسرے سے کٹ گئے۔ پاک فوج کے جوان ہیلی کاپٹرز کے ذریعے محصور ہوجانے والے افراد کو امدادی اشیاء پہنچا رہے ہیں۔ ؎

Tags: