بلدیہ اعظمیٰ بااثر شخصیت نے اربوں روپے کے پلاٹس کوڑیوں کے مول بیچ دیئے

July 27, 2015 5:18 pm0 commentsViews: 26

بلدیہ نے متعدد پلاٹس فروخت کرکے اندرون شہر اور سپرہائی وے پر 4 پلاٹس خریدے تھے جن کی مجموعی قیمت 50 ارب روپے سے زائد ہے
وفاقی تحقیقاتی اداروں نے کراچی میں اراضی کی الاٹمنٹس سے متعلق تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا‘ ایڈمنسٹریٹر سے تفصیلات طلب
کراچی( نیوز ڈیسک) سندھ کی ایک با اثر ترین سیاسی شخصیت کے ہاتھوں بلدیہ عظمیٰ کراچی کی اربوں روپے مالیت کے4 پلاٹ کی بندر باٹ کا انکشاف ہوا ہے جس کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے نے کراچی میں اراضی کی الاٹمنٹ سے متعلق تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے۔ شہری حکومت کے دور میں کروڑوں روپے مالیت کے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے پلاٹ فروخت کرکے سینکڑوں ایکڑ پر محیط 4بڑے پلاٹ خریدے گئے تھے شہری حکومت کے سربراہ کا کہنا تھا کہ مذکورہ پلاٹ فنڈز کی قلت کو پورا کرنے میں مستقبل میں کام آسکتے ہیں سندھ کی ایک انتہائی با اثر شخصیت نے2 پلاٹ اپنی قریبی افراد کو کوڑیوں کے دام فروخت کر دیا ہے۔ جبکہ ایک پلاٹ معروف بلڈرز کو بھی فروخت کیا گیا۔ ذرائع نے دعویٰ کیا کہ نوازے جانے والوں میں ایک اعلیٰ پولیس افسر بھی شامل ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سوک سینٹر پر ایف آئی اے کی جانب سے کارروائی اسی انکشاف کا تسلسل ہے۔ انتہائی با خبر زرائع کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے نے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے اربوں روپے مالیت کے اہم اثاثوں کی بندر بانٹ کے انکشاف کے بعد اپنی تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ سابقہ شہری حکومت کے نگراں نے بلدیہ عظمی کراچی میں فنڈز کی قلت کا نوٹس لیتے ہوئے اہم اقدامات کئے تھے جس کے تحت انہوں نے اولڈ سٹی ایریا سمیت شہر کے دیگر علاقوں میں موجود بلدیہ عظمیٰ کراچی کے اپنے چھوٹے متعدد سرکاری پلاٹ فروخت کرکے حکومت سندھ کے ریونیو ڈپارٹمنٹ سے اندرون شہر ایک اور سپر ہائی وے پر 3 بڑے پلاٹ خریدے تھے۔ خریدے گئے پلاٹ حکومت سے شہری حکومت کو منتقل ہونے کی وجہ سے اسے اصل قیمت پر فروخت کیا گیا تھا جس کی مالیت کروڑوں روپے تھی تاہم مارکیٹ میں ان پلاٹوں کی مجموعی قیمت 15 ارب روپے سے زائد تھی ذرائع کا کہنا ہے کہ صرف ایک پلاٹ کی قیمت اس وقت 15 ارب روپے سے زائد ہے اور مجموعی قیمت 50 ارب سے زائد بنتی ہے۔ پلاٹوں کا رقبہ سینکڑوں ایکڑٖ پر محیط تھا جبکہ اس سودے کے حوالے سے شہری حکومت کے نگراں کا کہنا تھا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کو جب بھی فنڈز کی قلت کا سامنا کرنا پڑا تو ایک ایک کرکے پلاٹ فروخت کر کے قلت پر قابو پالیا جائے گا۔ ذرائع نے مزید کہا کہ پلاٹوں کی خریداری کے بعد سندھ کی ایک انتہائی اہم شخصیت کو ان کی اہمیت اور قیمت کے بارے میں بتایا گیا تو انہوں نے فوری طور پر تمام سودے قانونی شکل میں انجام دے کر فروخت کرنے کی تیاری شروع کر دیں۔ ذرائع نے انکشاف کیا کہ با اثر ترین شخصیت نے تمام معاملات طے ہوجانے کے بعد چاروں پلاٹ کو موجودہ مارکیٹ ویلیو کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف80 کروڑ میں فروخت کر دیا ہے۔ذرائع نے دعویٰ کیا کہ اربوں روپے مالیت کا بندر بانٹ کا نوٹس لیتے ہوئے 15 روز قبل وفاقی تحقیقاتی ادارے نے ایڈمنسٹریٹر کراچی کو ایک خط بھی لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پلاٹوں کے سودے کی قیمت اور خریدنے والے افراد کے متعلق مکمل معلومات فراہم کی جائیں۔

Tags: