سندھ میں انتہائی اونچے سیلاب کی وارننگ کے بعد فوج طلب کرلی گئی

July 28, 2015 2:37 pm0 commentsViews: 25

اندرون سندھ تیز بارشوں کا سلسلہ جاری‘ چھتیں گرنے اور دیگر واقعات میں خواتین اور بچوں سمیت 7 افراد ہلاک ہوگئے
بیراجوں میں پانی کے بہائو میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے ‘ گھوٹکی میں تینوں بند ٹوٹ گئے‘ سیلابی پانی نے تباہی مچانا شروع کردی
کراچی( مانیٹرنگ ڈیسک) سندھ میں انتہائی اونچے سیلاب کی وارننگ جاری ہونے کے بعد لاڑکانہ اور کشمور میں حفاظتی بندوں کی نگرانی اور متاثرین کی مدد کیلئے فوج طلب کر لی گئی ہے۔ اندرون سندھ تیز بارشوں کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں چھتیں گرنے و دیگر واقعات میں خواتین اور بچوں سمیت7 افراد جاں بحق ہوگئے۔ مختلف بیراجوں پر بھی پانی کے بہا ئو میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ محکمہ میٹرو لوجیکل ( میٹ ) کے فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن نے دریائے سندھ میں گڈو کے بعد سکھر بیراج پر انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کی پیش گوئی کر دی ہے۔ گڈو بیراج کے مقام پر چھ گھنٹوں میں40 ہزار کیوسک پانی کا اضافہ ہوا ہے جبکہ کوہ سلیمان پر شدید بارشوں کے باعث دریائے سندھ کے پانی کے بہائو میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے اور آئندہ3 دن میں مزید 6 لاکھ کیوسک پانی کا ریلا داخل ہوگا، فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن کے مطابق دریائے سندھ میں6 لاکھ کیوسک تک سیلابی ریلا آج کالا باغ سے گزرے گا جو منگل اور بدھ کی درمیانی شب رات چشمہ بیراج پہنچے گا جہاں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کی وارننگ بھی جاری کر دی گئی ہے۔ یہ سیلابی ریلا جمعے کو لیہ پہنچے گا جس کے بعد تلاطم خیز پانی کا رخ ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے بعد سندھ میں داخل ہوگا تاہم اس سے قبل ہی بالائی سندھ میں سیلابی پانی نے تباہی مچانا شروع کر دی ہے۔ گھوٹکی میں مقامی زمینداروں کی طرف سے بنائے گئے تینوں دلیل فارم، عادل فارم اور منور فارم بند ٹوٹ گئے ہیں۔ گھوٹکی میں 200 سے زائد دیہات کا ملک سے زمینی رابطہ دوسرے روز بھی بحال نہیں ہو سکا۔ کشمور میں توڑی بند ، کے بند کی مضبوطی اور متاثرین کی مدد کیلئے فوج طلب کر لی گئی ہے لاڑکانہ میں موریا، عاقل، آگانی اور ہکڑا لوپ بندوں کی مضبوطی کا کام جاری ہے۔

Tags: