میگاکرپشن اسکینڈلز اگلا ہدف کے پی ٹی اور کسٹم افسران ہونگے

July 28, 2015 2:46 pm0 commentsViews: 25

انتہائی اہم حساس اداروں نے کرپشن میں ملوث کراچی پورٹ ٹرسٹ اور کسٹم کے افسران کے بارے میں اہم معلومات حاصل کرلیں، جلد گرفتاریاں شروع کی جائیں گی
کھربوں روپے کی کرپشن میں ملوث افسران ملک کے معروف سیاستدانوں کے فرنٹ مین کی حیثیت سے بھی غیرقانونی کاموںمیں ملوث رہے ہیں، حساس اداروں نے کراچی پورٹ ٹرسٹ اور کسٹم کے بدعنوان افسران کی فہرستیں تیارکرلیں جن کے خلاف آئندہ چند ہفتوں میں باضابطہ طور پر کارروائی شروع کردی جائے گی
کسٹم اور کے پی ٹی کے کئی افسران افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اسکینڈلز کے ہزاروں کنٹینر غائب کرنے میں بھی ملوث ہیںجن میں کروڑوں روپے مالیت کا قیمتی سامان اور اسلحہ موجود تھا، بندرگاہ پر غیرقدرتی حادثات میں ملوث ریٹائرڈ افسران کو بھی شامل تفتیش کیا جائے گا، زمینوں کی غیرقانونی الاٹمنٹ کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی ہوگی
کراچی( کرائم ڈیسک) کراچی میں میگا کرپشن اسکینڈلز میں ملوث سرکاری اداروں کے افسران کے خلاف جاری آپریشن میں سیکورٹی اداروں کا اگلا ہدف کراچی پورٹ ٹرسٹ اور کسٹم کے اعلیٰ افسران ہیں۔ باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں ملک کے انتہائی اہم حساس اداروں نے مطلوبہ معلومات حاصل کر لی ہیں۔ حاصل کی گئی معلومات میں کسٹم اور کے پی ٹی کے افسران کا کھربوں روپے کے کرپشن میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ مذکورہ افسران میں سے کئی افسران کرپشن میں ملوث ملک کے معروف سیاست دانوں کے فرنٹ مینوں کے طور پر بھی غیر قانونی کاموں میں ملوث رہے ہیں۔ وفاقی حساس اداروں نے پاکستان کسٹم کے ان افسران کی فہرستیں بھی مرتب کر لی ہیں جن کو گزشتہ دور حکومت میں میگا کرپشن اسکینڈلز میں ملی بھگت کے ذریعے کی جانے والی تحقیقات میں معزز عدالتوں سے کلین چٹ دلوائی جا چکی ہے۔ مذکورہ کرپشن کیسز میں افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اسکینڈل کے ہزاروں کنٹینرز غائب کرنے والے افسران سر فہرست ہیں۔ ان کنٹینرز میںکروڑوں روپے مالیت کا قیمتی سامان اور اسلحہ موجود تھا۔ اس کے علاوہ بندر گاہ پر ہونے والے غیر قدرتی حادثات کرانے والے افسران میں حاضر سروس سمیت ریٹائرڈ افسران بھی حساس اداروں کی لسٹ میں شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق صرف دو برس قبل آگ سے جلے ہوئے تانبے کے35 کلو وزن کے حامل بلاکس کو پورٹ کی دیوار توڑ کر نکالنے والے افسران اور اہلکاروں نے پانچ کروڑ روپے سے زائد کا کالا دھن کمایا تھا، اس واقعے میں آگ لگانے سے لے کر چوری کرانے اور انکوائری رپورٹ دبانے تک کسٹم افسران، کے پی ٹی افسران اور پورٹ سیکورٹی فورس کے چند اہلکار شامل ہیں۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کراچی پورٹ ٹرسٹ کی زمینوں کی غیر قانونی الاٹمنٹس کے ذریعے مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے سیاستدان اور اس کے والد نے20 برس کے دوران ہزاروں گز پر مشتمل قیمتی سرکاری اراضی فروخت کر کے کے پی ٹی افسران سے ملی بھگت کے ذریعے حاصل کرکے کروڑوں روپے کمائے جبکہ معمولی حیثیت کے سیکشن افسر کے طورپر ملازم تھے۔ دوران ملازمت اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے کے پی ٹی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ سے معاملات طے کر رکھے تھے۔ اس وقت ان کے خاندان، ذاتی ملازمین اور دوست احباب سمیت درجنوں افراد کے نام پر کئی کئی منزلہ رہائشی عمارتیں، گودام، شاپنگ سینٹر اور بنگلے موجود ہیں۔ مذکورہ سیاستدان اور ان کے خاندان کے متعدد افراد کے پی ٹی کی تمام تر زمینوں پر قبضوں اور غیر قانونی تعمیرات کو بچانے کیلئے عدالتی راستے دکھانے اور قبضہ مافیا کی سرپرستی کرنے میں بھی ملوث ہیں۔ اہم وفاقی ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کے پی ٹی افسران کی گرفتاری اور ان سے کی جانے والی تفتیش سے کئی اہم شخصیات کی بہت بڑی سطح کی کرپشن بے نقاب ہوں گی۔

Tags: