مچھلی کی فروخت میں بد عنوانی سے منافع300 فیصد ہو گیا

July 28, 2015 3:57 pm0 commentsViews: 217

تلی ہوئی فنگر فش اور کٹاکٹ کے نرخ120 روپے پائو اور480 روپے فی کلو ہو گئے
مڈل مین ہوٹلوں اور فش پوائنٹ پر شارک، سواڈنش ، رئور رئنگ رے فروخت کر رہا ہے
کراچی( کامرس رپورٹر) مقامی سطح پر مچھلی کی فروخت کے کاروبار میں بد عنوانی کے باعث منافع کی شرح300 فیصد سے بھی زائد ہوگئی۔ تلی ہوئی فنگر فش اور کٹا کٹ کے نرخ ریستورانوں اور فش پوائنٹس پر120 روپے پائوں اور480 روپے کلو فروخت کی جا رہی ہے۔ جبکہ مڈل مین کے ذریعے پٹن، اسٹنگ فش، شارک المعروف مگرا اور سواڈ نش ہاربر سے مڈل مین کے ذریعے20 روپے کلو خریدی جاتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق فش ہاربر کے باہر آبادی کے گھروں میں فشنگ کمپنیوں کی جانب سے بر آمدی مچھلی کے سازنگ پروسیجر کے بعدناقابل بر آمد مچھلیوں کو الگ کر دیا جاتا ہے جنہیں جمع کرکے ان مکانات میں فنگرز کی شکل دی جاتی ہے۔ جس کے بعد مڈل مین ہوٹلوں اور فش پوائنٹس کو سپلائی کرتاہے۔ کراچی میں چونکہ شارک سواڈنش اور اسٹنگ اے مچھلی نہیں کھائی جاتی اس لئے مچھلیوں کی ان اقسام کو کھال اتار کر ٹکڑوں کی شکل میں انہیں 20 روپے کلو فروخت کر دیا جاتاہے جبکہ یہی مچھلی سرمئی، ہیرا دھوترا اور رہو کے نام سے تیار شکل میں120 روپے پائو فروخت کی جاتی ہے۔ دوسری طرف شہر کی مارکیٹوں، دکانوں اور سائیکل پر مچھلی فروشوں نے بھی 80 فیصد دھوکہ دہی کو اپنا کاروبار بنا لیا ہے اور وہ پاپلیٹ، روہو، سرمئی اور لیڈی فش کے نام سے دیسی لیکن دوسری مچھلی معلومات نہ رکھنے والے کسٹمرز کو فروخت کرکے300 فیصد سے زائد ناجائز منافع کمانے میں مصروف ہیں۔ فش ہاربر پر اعلیٰ اقسام سے ملتی جلتی مچھلیوں کو سازنگ کے بعد علیحدہ کر دیا جاتاہے۔ جس کی نیلامی نہایت ارزاں قیمت پر ہوتی ہے۔ مچھلی کے یہ بد عنوان تاجر گزشتہ کئی سالوں سے معصوم عوام کو مہنگے داموں فروخت کر رہے ہیں۔

Tags: