ود ہولڈنگ ٹیکس پر مذاکرات ناکام: تاجر برادری یکم اگست کو ہڑتال کریگی

July 28, 2015 4:56 pm0 commentsViews: 22

ایف پی سی سی آئی‘ اپٹما‘ تمام صنعتی ایسوسی ایشنز‘ چیمبر آف کامرس بھی ہڑتال کی خاموش حمایت کریں گے
کوئی درمیانی راستہ نکالا جائے‘ تاجروں کے خدشات دور کئے جائیں‘ صدر ایف پی سی سی آئی کا ایف بی آرکو مشورہ
کراچی( کامرس ڈیسک) حکومت کی جانب سے بینک ٹرانزیکشن پر ود ہولڈنگ ٹیکس ختم کرنے سے انکار ‘تاجروں اور ایف بی آر چیئرمین کے مابین6 گھنٹے سے بھی زائد دورانیہ کی طویل مگر ناکام ملاقات کے بعد ملک بھر کی تاجر تنظیموں نے ود ہولڈنگ ٹیکس نہ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کراچی سمیت ملک بھر میں ہڑتال کی تیاریاں شروع کردی ہیں‘ یکم اگست کو ملک گیر شٹر ڈائون ہڑتال کی جائیگی‘ جبکہ تجارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس ہڑتال کی ایف پی سی سی آئی‘ اپٹما‘تمام صنعتی ایسوسی ایشنز‘ چیمبرز آف کامرس بھی خاموش حمایت کریں گے جبکہ مسلم لیگی حکومت کے حمایت یافتہ تاجروں نے بھی ملک بھر سے آئے ہوئے تاجر رہنمائوں کے دبائو پر بالآخر0.6 فیصد سے کم کیا گیا 0.3 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس کو بھی تسلیم کرنے سے انکار کردیا‘ ذرائع کے مطابق پیر کو اسلام آباد میں بینک ٹرانزیکشن پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس پر غور و خوص کیلئے چیئرمین ایف بی آر کے ساتھ ہونیوالے مذاکرات میں کراچی سمیت ملک بھر سے آنیوالے تاجر پھٹ پڑے اور تقریباً6 گھنٹے تک جاری تقریروں کے باجود حکومت نے0.3 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس واپس لینے سے انکار کردیا‘ اجلاس کے بعد جب وفاقی وزیر اسحاق ڈار کو علم ہوا کہ طویل دورانیہ پر مبنی اجلاس ناکام ہوگیا ہے تووہ ایف بی آر پہنچے جہاں ذرائع کے مطابق ان کی بات چیت ایف پی سی سی آئی کے سابق صدر زبیر ایف طفیل سے ہوئی اور انہوں نے کہا کہ تاجروں کے مطالبات زیر غور ہیں اور ود ہولڈنگ ٹیکس کو ختم کرنے کیلئے قانونی رکاوٹیں دور کرناہوں گی۔ ایف بی آر میں ہونیوالے اجلاس میں ایف پی سی سی آئی کے صدر میاں ادریس اور زبیر طفیل نے کہا کہ کوئی درمیانی راستہ نکالا جائے اور تاجروں کے خدشات دور کئے جائیں البتہ انکا کہنا تھا کہ تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں آنا چاہئے‘ تاجر رہنما عتیق میر نے کہا کہ یہ حکومت کی ہٹ دھرمی ہے کہ وہ ایسا ٹیکس عائد کرنا چاہتی ہے عتیق میر نے کہا کہ یکم اگست اور5 اگست کی ہڑتال کے اعلانات ہیں اور کوشش کی جارہی ہے کہ کسی ایک تاریخ پر ہی ملک بھر میں ہڑتال کی جائے۔

Tags: